دروازے کھلے ہیں جو مجرمین کی پاداش کے لئے خدا کے قانون قدرت نے مقرر کر رکھے ہیں پھر کیونکر کہا جائے کہ خدا کی زمین پر بادشاہت نہیں۔ سچ یہی ہے کہ بادشاہت تو ہے ہرایک مجرم کے ہاتھ میں ہتکڑیاں پڑی ہیں اور پاؤں میں زنجیر ہیں مگر حکمت الٰہی نے اس قدر اپنے قانون کو نرم کر دیا ہے کہ وہ ہتکڑیاں اور وہ زنجیریں فی الفور اپنا اثر نہیں دکھاتی ہیں اور آخر اگر انسان باز نہ آوے تو دائمی جہنم تک پہنچاتی ہیں اور اُس عذاب میں ڈالتی ہیں جس سے ایک مجرم نہ زندہ رہے اور نہ مرے۔ غرض قانون دو ۲ ہیں ایک وہ قانون جو فرشتوں کے متعلق ہے یعنی یہ کہ وہ محض اطاعت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور ان کی اطاعت محض فطرت روشن کا ایک خاصہ ہے وہ گناہ نہیں کر سکتے مگر نیکی میں ترقی بھی نہیں کر سکتے (۲)دوسرا قانون وہ ہے جو انسانوں کے متعلق ہے یعنی یہ کہ انسانوں کی فطرت میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ گناہ کر سکتے ہیں مگر نیکی میں ترقی بھی کر سکتے ہیں یہ دونوں فطرتی قانون غیر متبدل ہیں اور جیسا کہ فرشتہ انسان نہیں بن سکتا ہے ایسا ہی انسان بھی فرشتہ نہیں ہوسکتا ہے یہ دونوں قانون بدل نہیں سکتے ازلی اور اٹل ہیں اس لئے آسمان کا قانون زمین پر نہیں آسکتا اور نہ زمین کا قانون فرشتوں کے متعلق ہو سکتا ہے۔ انسانی خطاکاریاں اگر توبہ کے ساتھ ختم ہوں تو وہ انسان کو فرشتوں سے بہت اچھا بنا سکتی ہیں کیونکہ فرشتوں میں ترقی کا مادہ نہیں انسان کے گناہ توبہ سے بخشے جاتے ہیں اور حکمت الٰہی نے بعض افراد میں سلسلہ خطا کاریوں کا باقی رکھا ہے تا وہ گناہ کر کے اپنی کمزوری پر اطلاع پاویں اور پھر توبہ کر کے بخشے جاویں یہی قانون ہے جو انسان کے لئے مقرر کیا گیا ہے اور اسی کو انسانوں کی فطرت چاہتی ہے سہوونسیان انسانی فطرت کا خاصہ ہے فرشتہ کا خاصہ نہیں پھر وہ قانون جو فرشتوں کے متعلقؔ ہے انسانوں میں کیونکر نافذ ہو سکے۔ یہ خطا کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف کمزوری منسوب کی جاوے صرف قانون کے نتائج ہیں جو زمین پر جاری ہو رہے ہیں نعوذ باللہ کیا خدا ایسا کمزور ہے جس کی بادشاہت اور قدرت اور جلال صرف آسمان تک ہی محدود ہے