پیلاطوس میں دائر کیا گیا تھا مگر چونکہ خدا زمین کا بھی بادشاہ ہے جیسا کہ آسمان کا اس لئے اُس نے اس مقدمہ کی پہلے سے مجھے خبر دے دی کہ یہ ابتلا آنے والا ہے اور پھر خبر دے دی کہ میں تم کو بَری کروں گا اور وہ خبر صدہا انسانوں کو قبل ازوقت سنائی گئی اور آخر مجھے بَری کیا گیا پس یہ خدا کی بادشاہت تھی جس نے اس مقدمہ سے مجھے بچا لیا جو مسلمانوں اور ہندوؤں اور عیسائیوں کے اتفاق سے مجھ پر کھڑا کیا گیا تھا ایسا ہی نہ ایک دفعہ بلکہ بیسیوں دفعہ میں نے خدا کی بادشاہت کو زمین پر دیکھا اور مجھے خدا کی اس آیت پر ایمان لانا پڑا کہ3 3 ۱؂ یعنی زمین پر بھی خدا کی بادشاہت ہے اور آسمان پر بھی۔ اور پھر اس آیت پر ایمان لانا پڑا کہ 3۲؂ یعنی تمام زمین و آسمان اُس کی اطاعت کر رہی ہے جب ایک کام کو چاہتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو جا تو فی الفور وہ کام ہو جاتا ہے اور پھر فرماتا ہے33۳؂ یعنی خدا اپنے ارادہ پر غالب ہے مگر اکثر لوگ خداکے قہر اور جبروت سے بے خبر ہیں غرض یہ تو انجیل کی دعا ہے جو انسانوں کو خدا کی رحمت سے نو مید کرتی ہے اور اس کی ربوبیت اور افاضہ اور جزا سزا سے عیسائیوں کو بے باک کرتی ہے اور اس کو زمین پر مدد دینے کے قابل نہیں جانتی جب تک اس کی بادشاہت زمین پر نہ آوے لیکن اس کے مقابل پر جو دعا خدا نے مسلمانوں کو قرآن میں سکھلائی ہے وہ اس بات کو پیش کرتی ہے کہ زمین پر خدا مسلوب السلطنت لوگوں کی طرح بے کار نہیں ہے بلکہ اس کا سلسلہ ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت اور مجازات زمین پر جاری ہے اور وہ اپنے عابدوں کو مدد دینے کی طاقت رکھتا ہے اور مجرموں کو اپنے غضب سے ہلاک کر سکتا ہے وہ دعا یہ ہے 3۔ 3۔ 3 3۔ 3۔ 3۔ 3 33۔آمین۔ ترجمہ- وہؔ خدا ہی ہے جو تمام تعریفوں کا مستحق ہے یعنی اس کی بادشاہت میں کوئی نقص نہیں اور