بھی ہوتی ہیں خون بھی ہوتے ہیں زنا کار اور خائن اور مرتشی وغیرہ ہر یک قسم کے جرائم پیشہ بھی پائے جاتے ہیں مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس ملک میں سرکار انگریزی کا راج نہیں۔ کیونکہ راج تو ہے مگر گورنمنٹ نے عمداً ایسے سخت قانون کو مناسب نہیں سمجھا جس کی دہشت سے لوگوں پر زندگی مشکل ہو جائے ورنہ اگر گورنمنٹ تمام جرائم پیشہ کو ایک تکلیف دہ زندان میں رکھ کر ان کو جرائم سے روکنا چاہے تو بہت آسانی سے وہ رُک سکتے ہیں یا اگر قانون میں سخت سزائیں رکھی جائیں تو ان جرائم کا انسداد ہوسکتا ہے پس تم سمجھ سکتے ہو کہ جس قدراس ملک میں شراب پی جاتی ہے فاحشہ عورتیں بڑھتی جاتی ہیں چوری اور خون کی وارداتیں ہوتی ہیں یہ اس لئے نہیں کہ گورنمنٹ انگریزی کا یہاں راج نہیں بلکہ گورنمنٹ کے قانون کی نرمی نے جرائم میں کثرت پیدا کر دی ہے نہ یہ کہ گورنمنٹ انگریزی اس جگہ سے اُٹھ گئی ہے بلکہ سلطنت کا اختیار ہے کہ قانون کو سخت کر کے اور سنگین سزائیں مقرر کر کے ارتکاب جرائم سے روک دے جبکہ انسانی سلطنت کا یہ حال ہے کہ جو الٰہی سلطنت کے مقابل پر کچھ بھی چیز نہیں تو الٰہی سلطنت کس قدر اقتدار اور اختیار رکھتی ہے اگر خدا کا قانون ابھی سخت ہو جائے اور ہر یک زنا کرنے والے پر بجلی پڑے اور ہر یک چور کو یہ بیماری پیدا ہو کہ ہاتھ گل سٹر کر گر جائیں اور ہر یک سر کش خدا کا منکر اس کے دین کا منکر طاعون سے مرے تو ایک ہفتہ گذرنے سے پہلے ہی تما م دنیا را ستبازی اور نیک بختی کی چادر پہن سکتی ہے۔ پس خدا کی زمین پر بادشاہت تو ہے لیکن آسمانی قانون کی نرمی نے اس قدر آزادی دے رکھی ہے کہ جرائم پیشہ جلدی نہیں پکڑے جاتے ہاں سزائیں بھیؔ ملتی رہتی ہیں۔زلزلے آتے ہیں۔ بجلیاں پڑتی ہیں۔ کوہ آتش فشاں آتش بازی کی طرح مشتعل ہو کر ہزاروں جانوں کا نقصان کرتے جاتے ہیں جہاز غرق ہوتے ہیں ریل گاڑیوں کے ذریعہ سے صدہا جانیں تلف ہوتی ہیں۔طوفان آتے ہیں مکانات گرتے ہیں سانپ کاٹتے ہیں درندے پھاڑتے ہیں وبائیں پڑتی ہیں اور فنا کرنے کا نہ ایک دروازہ بلکہ ہزارہا