جب کوئی انسان ایک متنازعہ فیہ امر میں گواہی نہ دے تب فیصلہ کے لئے خدائی گواہی کی ضرورت ہے اور قسم خدا کو گواہ ٹھہرانا ہے۔ اور قرآنتمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ ہر ایک جگہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ وہ کہتا ہے 333 ۱ یعنی بدی کا بدلہ اُسی قدر بدی ہے جو کی گئی لیکن جو شخص عفو کرے اور گناہ بخش دے اور اس عفو سے کوئی اصلاح پیدا ہوتی ہو نہ کوئی خرابی تو خدا اس سے راضی ہے اور اُسے اُس کا بدلہ دے گا۔ پس قرآن کے رو سے نہ ہریک جگہ انتقام محمود ہے اور نہ ہر یک جگہ عفو قابل تعریف ہے بلکہ محل شناسی کرنی چاہئے اور چاہئے کہ انتقام اور عفو کی سیرت بپابندی محل اور مصلحت ہو نہ بے قیدی کے رنگ میں یہی قرآن کا مطلب ہے اور قرآن انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ اپنے دشمنوں سے پیار کرو بلکہ وہ کہتا ہے کہ چاہئیے کہ نفسانی رنگ میں تیرا کوئی بھی دشمن نہ ہو اور تیری ہمدردی ہر ایک کے لئے عام ہو مگر جو تیرے خدا کا دشمن تیرے رسول کا دشمن اور کتاب اللہ کا دشمن ہے وہی تیرا دشمن ہوگا سو تو ایسوں کو بھی دعوت اور دعا سے محروم نہ رکھ اور چاہئے کہ تو اُن کے اعمال سے دشمنی رکھے نہ ان کی ذات سے اور کوشش کرے کہ وہ درست ہو جائیں اور اس بارے میں فرماؔ تا ہے۔ 33۲ یعنی خدا تم سے کیا چاہتا ہے بس یہی کہ تم تمام نوع انسان سے عدل کے ساتھ پیش آیا کرو پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ ان سے بھی نیکی کرو جنہوں نے تم سے کوئی نیکی نہیں کی۔ پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم مخلوق خدا سے ایسی ہمدردی کے ساتھ پیش آؤ کہ گویا تم اُن کے حقیقی رشتہ دار ہو جیسا کہ مائیں اپنے بچوں سے پیش آتی ہیں کیونکہ احسان میں ایک خودنمائی کا مادہ بھی مخفی ہوتا ہے اور احسان کرنے والا کبھی اپنے احسان کو جتلا بھی دیتا ہے لیکن وہ جو ماں کی طرح طبعی جوش سے نیکی کرتا ہے وہ کبھی خود نمائی نہیں کر سکتا۔ پس آخری درجہ نیکیوں کا طبعی جوش ہے جو ماں کی طرح ہو اور یہ آیت نہ صرف مخلوق کے متعلق ہے بلکہ خدا کے متعلق بھی ہے خدا سے عدل یہ ہے کہ اس کی نعمتوں کو یاد کر کے اس کی فرمانبرداری کرنا اور خدا سے احسان یہ ہے کہ اس کی ذات پر ایسا یقین کر لینا کہ گویا