شہوت کے خیال سے نامحرم عورتوں کو مت دیکھ اور بجز اس کے دیکھنا حلال۔ بلکہ وہ کہتا ہے کہ ہرگز نہ دیکھ نہ بدنظری سے اور نہ نیک نظری سے کہ یہ سب تمہارے لئے ٹھوکر کی جگہ ہے بلکہ چاہئے کہ نامحرم کے مقابلہ کے وقت تیری آنکھ خوابیدہ رہے تجھے اس کی صورت کی کچھ بھی خبر نہ ہو مگر اُسی قدر جیسا کہ ایک دُھندلی نظر سے ابتدا نزول الماء میں انسان دیکھتا ہے۔ قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ اتنی شراب مت پیؤ کہ مست ہو جاؤ بلکہ وہ کہتا ہے کہ ہرگز نہ پی ورنہ تجھے خدا کی راہ نہیں ملے گی اور خدا تجھ سے ہمکلام نہیں ہوگا اور نہ پلیدیوں سے پاک کرے گا اور وہ کہتا ہے کہ یہ شیطان کی ایجاد ہے تم اس سے بچو۔ قرآن تمہیں انجیل کی طرح فقط یہ نہیں کہتا کہ اپنے بھائی پر بے سبب غصہ مت ہو بلکہ وہ کہتا ہے کہ نہ صرف اپنے ہی غصہ کو تھام بلکہ3 ۱ پر عمل بھی کر اور دوسروں کو بھی کہتا رہ کہ ایسا کریں اور نہ صرف خود رحم کر بلکہ رحم کے لئے اپنے تمام بھائیوں کو وصیت بھی کر۔ اور قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ بجز زنا کے اپنی بیوی کی ہر یک ناپاکی پر صبر کرو اور طلاق مت دو بلکہ وہ کہتا ہے3 ۲ قرآن کا یہ منشا ہے کہ ناپاؔ ک پاک کے ساتھ رہ نہیں سکتا۔ پس اگر تیری بیوی زنا تو نہیں کرتی مگر شہوت کی نظر سے غیر لوگوں کو دیکھتی ہے اور اُن سے بغل گیر ہوتی ہے اور زنا کے مقدمات اُس سے صادر ہوتے ہیں گو ابھی تکمیل نہیں ہوئی اور غیر کو اپنی برہنگی دکھلا دیتی ہے اور مشرکہ اور مفسدہ ہے اور جس پاک خدا پر تو ایمان رکھتا ہے اُس سے وہ بیزار ہے تو اگر وہ باز نہ آوے تو تو اُسے طلاق دے سکتا ہے کیونکہ وہ اپنے اعمال میں تجھ سے علیحدہ ہوگئی اب تیرے جسم کا ٹکڑہ نہیں رہی۔ پس تیرے لئے اب جائز نہیں ہے کہ تو د ّ یوثی سے اس کے ساتھ بسر کرے کیونکہ اب وہ تیرے جسم کا ٹکڑہ نہیں ایک گندہ اور متعفن عضو ہے جو کاٹنے کے لائق ہے ایسا نہ ہو کہ وہ باقی عضو کو بھی گندہ کر دے اور تو مر جاوے۔ اور قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ ہرگز قسم نہ کھا بلکہ بیہودہ قسموں سے تمہیں روکتا ہے کیونکہ بعض صورتوں میں قسم فیصلہ کے لئے ایک ذریعہ ہے اور خدا کسی ذریعہ ثبوت کو ضائع کرنا نہیں چاہتا کیونکہ اس سے اُس کی حکمت تلف ہوتی ہے یہ طبعی امر ہے کہ