اس کو دیکھ رہا ہے اور خدا سے اِیْتَاءِ ذِی الْقُرْبٰییہ ہے کہ اُس کی عبادت نہ تو بہشت کے طمع سے ہو اور نہ دوزخ کے خوف سے۔ بلکہ اگر فرض کیا جائے کہ نہ بہشت ہے اور نہ دوزخ ہے تب بھی جوش محبت اور اطاعت میں فرق نہ آوے۔ اور انجیل میں لکھا گیا ہے کہ جو لوگ تم پر *** کریں اُن کے لئے برکت چاہو مگر قرآن کہتا ہے کہ تم اپنی خودی سے کچھ بھی نہ کرو۔ تم اپنے دل سے جو خدا کی تجلیات کا گھر ہے فتویٰ پوچھو کہ ایسے شخص کے ساتھ کیا معاملہ چاہئے پس اگر خدا تمہارے دل میں ڈالے کہ یہ *** کرنے والا قابل رحم ہے اور آسمان میں اُس پر *** نہیں تو تم بھی *** نہ کرو تا خدا کے مخالف نہ ٹھہرو۔ لیکن اگر تمہارا کانشنس اس کو معذور نہیں ٹھہراتا اور تمہارے دل میں ڈالا گیا ہے کہ آسمان پر اس شخص پر *** ہے تو تم اس کے لئے برکت نہ چاہو جیسا کہ شیطان کے لئے کسی نبی نے برکت نہیں چاہی اور کسی نبی نے اس کو *** سے آزاد نہیں کیا۔ مگر کسی کی نسبت *** میں جلدی نہ کرو کہ بہتیری بدظنیاں جھوٹیاں ہیں اور بہتیری لعنتیں اپنے ہی پر پڑتی ہیں سنبھل کر قدم رکھو اور خوب پڑتال کر کے کوئی کام کرو اور خدا سے مدد مانگو کیونکہ تم اندھے ہو ایسا نہ ہو کہ عادل کو ظالم ٹھہراؤ ۔اور صادق کو کاذب خیال کرو۔ اس طرح تم اپنے خدا کو ناراض کر دو اور تمہارے سب نیک اعمال حبط ہو جاویں۔ ایسا ؔ ہی انجیل میں کہا گیا ہے کہ تم اپنے نیک کاموں کو لوگوں کے سامنے دکھلانے کے لئے نہ کرو مگر قرآن کہتا ہے کہ تم ایسا مت کرو کہ اپنے سارے کام لوگوں سے چھپاؤ بلکہ تم حسبِ مصلحت بعض اپنے نیک اعمال پوشیدہ طور پر بجا لاؤ جب کہ تم دیکھو کہ پوشیدہ کرنا تمہارے نفس کے لئے بہتر ہے اور بعض اعمال دکھلاکر بھی کرو جب کہ تم دیکھو کہ دکھلانے میں عام لوگوں کی بھلائی ہے تا تمہیں دو بدلے ملیں اور تا کمزور لوگ کہ جو ایک نیکی کے کام پر جرأت نہیں کر سکتے وہ بھی تمہاری پیروی سے اُس نیک کام کو کر لیں۔ غرض خدا نے جو اپنے کلام میں فرمایا۔ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً یعنی پوشیدہ بھی خیرات کرو اور دکھلا دکھلا کر بھی۔ ان احکام کی حکمت اُس نے خود فرما دی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف قول سے لوگوں کو سمجھاؤ بلکہ فعل سے بھی تحریک کرو کیونکہ