ویُحکِم ذلّتہم وخذلانہم. فأوّلُ ما فعل لہذہ الإرادۃ ہو خلق عیسٰی
وذلت وخذلان اوشانرااستوارگرداندپس اول کاریکہ خداتعالیٰ برائے این ارادہ کرد۔آن پیدائش عیسےٰ است
من غیر أبٍ بالقدرۃ المجردۃ. فکان عیسٰی إرہاصًا لنبیّنا وعَلَمًا لنقل النبوۃ،
بغیرپدر۔پس بودعیسیٰ ارہاص برائے نبی ماصلے اللہ علیہ وسلم و نشان برائے نقلِنبوت
بما لم یکن من جہۃ الأب من السلسلۃ الإسرائیلیۃ. وأمّا یحیٰی فکان
چراکہ عیسیٰ ازجہت پدر از سلسلہ بنی اسرائیل نبود۔مگر یحیٰی
دلیلا مخفیا علی الانتقال، فإن یحیٰی ما تولّد من القوی الإسرائیلیۃ البشریۃ،
برانتقال نبوت دلیل مخفی بود۔چراکہ یحیٰی ٰ ازقوائے اسرائیلیہ بشریہ پیدانہ شد
بل من قدرۃ اللہ الفعّال. فما بقی للیہود بعدہما للفخر مَطرَحٌ، ولا للتکبر
بلکہ ازقدرت خدائے پاک۔پس بعدازین ہردونبی کہ بدین طورپیداشدندیہودرابرسلسلہ نبوت خودجائے فخر نماند
مَسرَحٌ. وکان کذالک لیقطع اللہ الحِجاجَ، وینقّص التصلّفَ ویسکّن
ونہ برائے تکبرچراگاہ وہمچنین شدتاکہ خداحجت ہاراقطع کند۔ولاف زدن راکم کند وفرونشاند
العَجاجَ. ثم بعد ذالک نقل النبوۃ من وُلدِ إسرائیل إلی إسماعیل، وأنعم
غباررا۔بعدزین نبوت راازاولاد اسرائیل بسوئے اسمٰعیل منتقل فرمودوانعام
اللہ علی نبینا محمد وصرَف عن الیہود الوحیَ و ؔ جبرائیلَ. فہو خاتم الأنبیاء
فرمودبرنبی ماصلی اللہ علیہ وسلم وبازداشت وحی راوجبرائیل راازخاندان یہود۔پس اوخاتم الانبیاء است
لا یبعث بعدہ نبی من الیہود، ولا یردّ العزّۃ المسلوبۃ إلیہم، وہذا وعد
مبعوث نخواہدشد بعدزوہیچ نبی ازخاندان یہود۔وعزتے کہ ازیہودبازگرفتہ شد بازواپس نخواہنددادواین
من اللہ الودود. وکذالک کُتب فی التوراۃ والإنجیل والقرآن، فکیف یرجع
وعدہ خدائے ودوداست۔وہمچنین نوشتہ است درتورات وانجیل وقرآن ۔پس چگونہ بازآید
عیسٰی، فقد حبَسہ جمیعُ کتب اللہ الدیّان؟ وإن کان راجعا قبل یوم القیامۃ
عیسیٰ وبازداشتہ است اوراتمام کتاب ہائے خداتعالیٰ۔واگر ضروری است کہ قبل قیامت دردنیاآمدہ باشد