ملک اور بنی اسرائیل کا بیت مقدس تمہیں عطا نہیں کیا جو آج تک تمہارے قبضہ میں ہے پس اے سست اعتقادو اور کمزور ہمتو کیا تمہیں یہ خیال ہے کہ تمہارے خدا نے جسمانی طور پر تو بنی اسرائیل کے تمام املاک کا تمہیں قائم مقام کر دیا۔ مگر روحانی طور پر تمہیں قائم مقام نہ کر سکا بلکہ خدا کا تمہاری نسبت اِن سے زیادہ فیض رسانی کا ارادہ ہے خدا نے اُن کے روحانی جسمانی متاع و مال کا تمہیں وارث بنایا مگر تمہارا وارث کوئی دوسرا نہ ہوگا جب تک کہ قیامت آ جاوے خدا تمہیں نعمت وحی اور الہام اور مکالمات اور مخاطبات الٰہیہ سے ہرگز محروم نہیں رکھے گا وہ تم پر وہ سب نعمتیں پوری کرے گا جو پہلوں کو دی گئیں لیکن جو شخص گستاخی کی راہ سے خدا پر جھوٹ باندھے گا اور کہے گا کہ خدا کی وحی میرے پر نازل ہوئی حالانکہ نہیں نازل ہوئی اور یا کہے گا کہ مجھے شرف مکالمات اور مخاطبات الٰہیہ کا نصیب ہوا حالانکہ نہیں نصیب ہوا تو میں خدا اور اس کے ملائکہ کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ وہ ہلاک کیا جائے گا کیونکہ اُس نے اپنے خالق پر جھوٹ باندھا اور فریب کیا اور سخت بیباکی اور شوخی ظاہر کی سو تم اِس مقام میں ڈرو *** ہے ان لوگوں پر جو جھوٹی خواؔ بیں بناتے ہیں اور جھوٹے مکالمات اور مخاطبات کا دعویٰ کرتے ہیں گویا وہ دل میں خیال کرتے ہیں کہ خدا نہیں ،پر خدا کا عقاب ان کو سخت پکڑے گا اور اُن کا بُرا دن اُن سے ٹل نہیں سکتا۔ سو تم صدق اور راستی اور تقویٰ اور محبت ذاتیہ الٰہیہ میں ترقی کرو اور اپنا کام یہی سمجھو جب تک زندگی ہے پھر خدا تم میں سے جس کی نسبت چاہے گا اس کو اپنے مکالمہ مخاطبہ سے بھی مشرف کرے گا تمہیں ایسی تمنّا بھی نہیں چاہئے تا نفسانی تمنّا کی وجہ سے سلسلہ شیطانیہ شروع نہ ہو جائے جس سے کئی لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں پس تم خدمت اور عبادت میں لگے رہو تمہاری تمام کوشش اسی میں مصروف ہونی چاہئے کہ تم خدا کے تمام احکام کے پابند ہو جاؤ اور یقین میں ترقی چاہو نجات کے لئے نہ الہام نمائی کے لئے قرآن شریف نے تمہارے لئے بہت پاک احکام لکھے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ تم شرک سے بکلی پرہیز کرو کہ مشرک سرچشمہءِ نجات سے بے نصیب ہے۔ تم جھوٹ نہ بولو کہ جھوٹ بھی ایک حصہ شرک ہے۔ قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ صرف بدنظری اور