وَ سَمَّاہُ تِبْیَانًا وَّ قَوْلًا مُّفَصَّلًا فَاَيَّ حَدِیْثٍ بَعْدَہُ نَتَخَیَّرُ اور اس کا نام تِبیان اور قولِ مفصّل رکھا ۔پس کس حدیث کو ہم اس کے بعد اختیار کریں فَدَعْ ذِکْرَ بَحْثٍ فِیْہِ ظُلْمٌ وَّفِرْیَۃٌ وَفَکِّرْ بِنُوْرِ الْقَلْبِ فِیْمَا نُکَرِّرُ پس ایسی بحث کو چھوڑ دے جس میں جھوٹ ہے۔ اور نورِ دل کے ساتھ ہماری باتوں میں غور کر لَنَا الْفَضْلُ فِی الدُّنْیَا وَاَنْفُکَ رَاغِمٌ وَکُلُّ صَدُُوْقٍ لَّا مَحَالَۃَ یُظْھَرُ ہمیں دنیا میں بزرگی دی گئی اور تو ذلّت میں ہے۔ اور ہر ایک راستبا ز انجام کار غالب کیا جاتا ہے عَلَوْؔ نَا بِسَیْفِ اﷲِ خَصْمًا اَبَاالْوَفَا فَنُمْلِیْ ثَنَاءَ اﷲِ شُکْرًا وَّنَسْطُرُ ہم نے * اپنے دشمن ابو الوفا کو مار لیا۔ پس ہم خدا کی تعریف از روئے شکر کے لکھتے ہیں اَیَزْعَمُ اَنِّیْ قَدْ تَقَوَّلْتُ عَامِدًا فَوَیْلٌ لَّہُ یُغْوِی الْأُنَاسَ وَیَہْذُرُ وہ گمان کرتا ہے کہ میں نے عمداً جھوٹ بنا لیا۔ پس اس پر واویلا کہ لوگوں کو گمراہ اور بکواس کر رہا ہے اَرٰی بَاطِلًا قَدْ ثَلَّمَ الْحَقُّ جُدْرَہُ فَاَضْحَی الْھُدٰی مِثْلَ الضُّحٰی یُتَبَصَّرُ میں دیکھتا ہوں کہ سچائی نے باطل کی دیواروں میں سوراخ کر دیا۔ پس ہدایت روزِ روشن کی طرح نمایاں ہو گئی وَاِنَّیْ طَبَعْتُ الْیَوْمَ نَظْمَ قَصِیْدَتِیْ وَکَانَ اِلٰی نِصْفٍ تَمَشَّی نُؤَمْبَرُ اور آج میں نے اپنے اس قصیدہ کی نظم کو چھاپ دیا۔ اور نومبر کا مہینہ قریباً نصف گذر چکا تھا کَذَالِکَ مِنْ شَعْبَانَ نِصْفٌ کَمِثْلِہِ فَیَا رَبِّ بَارِکْھَا لِمَنْ یَّتَذَکَّرُ اسی طرح شعبان کا بھی نصف تھا ۔ پس اے میرے ربّ ! ان کے لئے اس کو مبارک کر جو ہدایت پر آنا چاہے رمَیْتُ لِاَغْتَالَنْ وَّمَاکُنْتُ رَامِیًا وَلٰکِنْ رَّمَاہُ اﷲُ رَبِّی لِیُظْھِرُ میں نے اس رسالہ کو تیرکی طرح چلایا تایک دفعہ دشمن کا کام تمام کروں۔ اور دراصل میں نے اس کو نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا تا مجھے غلبہ دے * سہوِ کاتب سے بِسَیْفِ اللّٰہِ کا ترجمہ رہ گیا ہے۔ مکمل ترجمہ یوں ہے۔ ’’ہم نے خدا کی تلوار سے اپنے دشمن ابوالوفا کو مار دیا‘‘۔ (شمس)