وَفِیْ خَمْسَۃٍ قَدْ تَمَّ نَظْمُ قَصِیْدَتِیْ
بَلِ الْوَقْتُ خَالِصْۃً اَقَلُّ وَاَقْصَرُ
اور میرا قصیدہ پانچ دن میں ختم ہوا۔ بلکہ اصل وقت اس سے بھی کمتر ہے یعنی تین دن
فَفَکِّرْ بِجُھْدِکْ خَمْسَ عَشْرَۃَ لَیْْْلَۃً
وَنَادِ حُسَیْنًا اَوْ ظَفَرْ اَوْ اَصْغَرُ
پس تو پندرہ راتیں کوشش کرتا رہ۔ اور محمد حسین کو اور قاضی ظفر الدین اور اصغر علی کو بلا لے
وَھٰذَا مِنَ الاٰیٰتِ یَا اَکْبَرَ الْعِدَا
فَھَلْ اَنْتَ تَنْسِجْ مِثْلَھَا یَا مُخَسَّرُ
اور یہ خدا کا نشان ہے اے بڑے دشمن! پس کیا تو اس کی مانند بنا لے گا؟
عَلٰی مَوْطِنٍ یَّخْشَی الْجَبَانُ نُجَمِّرُ
فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَیْءٍ فَبَادِرْ وَ نَبْدِرُ
جہاں بزدل بھاگ جاتے ہیں ہم جم کر کھڑے ہیں۔ پس اگر تُو کچھ چیز ہے تو مقابلہ پر آ ‘ پھر ہم دیکھ لیں گے
اَتَسْتُرُ بَغْیًا بَرْقَ اٰیٰتِ رَبِّنَا
سَیُظْھِرُ رَبِّی کُلَّمَا کُنْتَ تَسْتُرُ
کیاتو بغاوت کر کے * نشانوں کی چمک کو پوشیدہ کرنا چاہتا ہے۔ پس میرا خدا وہ سب ظاہر کر دے گا جس کو تُو چھپاتا ہے
تُرِیْدُوْنَ ذِلَّتْنَا وَنَحْنُ ھَوَانَکُمْ
وَلِلّٰہِ حُکْمٌ نَافِذٌ فَسَیَأْمُرُ
تم ہماری ذلّت چاہتے ہو اور ہم تمہاری اور خدا کے لئے حکم نافذ ہے۔ وہ فیصلہ کر دے گا
تَرَکْتُمْ کَلَامَ اﷲِ مِنْ غَیْرِ حُجَّۃٍ
وَاِنَّ کَلَامَ ا ﷲِ اَھْدٰی وَاَظْھَرُ
تم نے خداکے کلام کو بے دلیل ترک کر دیا اور خدا کا کلام اصل ہدایت اور ظاہر تر ہے
وَ یَسَّرَہُ الْمَوْلٰی لِیَدَکَّرَ الْوَرٰ ی
فَلَاشَکَّ اَنَّ الذِّکْرَاَجْلٰی وَاَیْسَرُ
اور خدا نے اس کو سہل کیا تا لوگ یاد کریں۔ پس کچھ شک نہیں کہ قرآن روشن اور آسان تر ہے
وَفِیْہِ تَجَلَّتْ بَیِّنٰتٌ مِّنَ الْھُدٰی
وَسَمَّاہُ فُرْقَانًا عَلِیْمٌ مُقَدِّرُ
اور اس میں کھلی کھلی ہدایتیں موجود ہیں۔ اور خدا نے اس کا نام فرقان رکھا ہے
* اس مصرعہ میں ربّنا کا ترجمہ سہو کاتب سے نہیں لکھا گیا۔ ترجمہ یوں چاہئے تھا۔ ’’کیا تو بغاوت کر کے ہمارے ربّ کے نشانوں کی چمک کو پوشیدہ کرنا چاہتا ہے‘‘۔ (شمس)