فَاَؔ بْشِرْ وَبَشِّرْ کُلَّ غُوْلٍ یَسُبُّنِیْ
سَیَأْتِیْکَ مِنِّیْ بِالتَّحَاءِفِ سَرْوَرُ
پس خوش ہو اور ہر ایک غول جو مجھے گالی دیا کرتا تھا اس کو بشارت دے۔ عنقریب میری طرف سے سید محمد سرور تحفہ لے کر تیرے پاس آئیں گے
وَاِنِّیْ اَنَا الْبَازِی الْمُطِلُّ عَلَی الْعِدَا
وَاِنِّیْ مُعَانٌ مِّنْ مُّعِیْنٍ یُّکَبَّرُ
اور میں وہ باز ہوں جو دشمنوں پر جا پڑتا ہے اور میں خدا تعالیٰ سے مدد دیا گیا ہوں
اَ ثِرْ کُلَّ شَرْقِيِّ الْبِلَادِ وَغَرْبِہَا
وَکُلَّ اَدِیْبٍ کَانَ کَالْبَقِّ یَطْمِرُ
تو مشرق مغرب کو میرے مقابل پر برانگیختہ کر اور ہر ایک ادیب کو بلا لو جو مچھر کی طرح کودتا تھا
وَمَنْ کَانَ یَحْکِيْ نَاقَۃً مُشْمَعِلَّۃً
صَغَارٌ یَمُسُّ الْقَوْمَ فَاسْعَوْا وَدَبِّرُوْا
اور اس شخص کو بُلا لو جو تیز رَو اونٹنی کے مشابہ ہو۔ قوم کو بڑی خواری پیش آئی ہے۔ دوڑو اور کچھ تدبیر کرو
وَاِنِّیْ لَعَمْرِاﷲِ لَسْتُ بِجَاءِرٍ
وَاِنْ کُنْتَ تَأْتِی بِالصَّوَابِ فَاُدْبِرُ
اور میں ‘ بخدا‘ ظالم نہیں ہوں۔ اگر تمہارا جواب درست ہو گا تو میں پیچھے ہٹ جاؤں گا
وَاِنْ کُنْتَ لَا تُصْغِیْ اِلَیْنَا تَغَافُلًا
ً
تَہُدُّ وَتُلْْغِیْ کُلَّمَا کُنْتَ تَعْمُرُ
اور اگر تو نے ہمارے اس قول کی طرف توجہ نہ کی۔ تو تُو اس عمارت کو ڈھاوے گا اور بیکار کر دے گا جو تو نے بنائی تھی
اَلَسْتَ تَرٰی یَرْمِی الْقَنَا مَنْ عِنْدَکُمْ
جَھُوْلٌ وَلَا یَدْرِی الْعُلُوْمَ وَاَکْفَرُ
کیا تو نہیں دیکھتا کہ وہ شخص تم پر نیزے چلا رہا ہے کہ جو تمہارے نزدیک جاہل۔ بے علم *
فَاَیْنَ ضَرَتْ مِنْکُمْ عَلَامَۃُ صِدْقِکُمْ
وَاَیْنَ اخْتَفٰی عِلْمٌ بِہِ کُنْتَ تُکْفِرُ
پس کہاں کود کر تمہاری سچائی کی علامت چلی گئی۔ اور کہاں وہ علم چلا گیا جس کے ساتھ تُو کافر بناتا تھا
وَاَیْنَ التَّصَلُّفْ بِالْفَضَاءِلِ وَالنُّہٰی
وَاَیْنَ بِہٰذَا الْوَقْتِ قَوْمٌ وَّ مَعْشَرُ
اور کہاں وہ لاف زنی ‘ جو فضیلت اور عقل کی‘ کی جاتی تھی۔ اور کہاں ہے اس وقت تیری قوم اور تیرا گروہ؟
وَاَیْنَ عَفَتْ مِنْکُمْ طَلَاقَۃُ اَلْسُنٍ
سِلَاطٍ عَلَیْنَا مِثْلَ سَیْفٍ یُّشَھَّرُ
اور کہاں نابود ہو گئی زبانوں کی چالاکی۔ وہ زبانیں جو ہم پر تلوار کی طرح کھینچی گئی تھیں
* سہو کاتب سے واکفر کا ترجمہ رہ گیا ہے۔ مکمل ترجمہ یوں ہے۔’’جو تمہارے نزدیک جاہل ۔ بے علم اور کافر ہے۔‘‘ (شمس)