عَلٰی مِثْلِھَا لَمْ نَطَّلِعْ فِی مُکَلََّمٍ وَاِنْ کَانَ عِیْسٰی اَوْ مِنَ الرُّسْلِ ٰاخَرُ ان تمام مصیبتوں کے لئے دوسرے نبی میں نظیر نہیں پائی جاتی خواہ عیسیٰ ہو یا کوئی اور نبی ہو فَفَکِّرْ أَھٰذَا کُلُّہُ کَانَ بَاطِلًا وَمَا کَانَ شِرْکُ النَّاسِ شَیْءًا یُغَیَّرُ پس سوچ کیا یہ تمام کارروائی باطل تھی؟ اور شرک کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس کو بدلا یاجائے اَ لَا لَاءِمِیْ عَارَ النِّسَاءِ اَبَالْوَفَا اِ لَامَ کَفِتْیَانِ الْوَغٰی تَتَنَمَّرُ اے عورتوں کے عار ثناء اﷲ ۔ کب تک مردانِ جنگ کی طرح پلنگی دکھلائے گا أَرُدْتُّ الْھَوٰی مِنْ بَعْدِ سِتِّیْنَ حِجَّۃً؟ وَذٰلِکَ رَأْيٌ لَایَرَاہُ الْمُفَکِّرُ کیا میں نے ساٹھ برس کی عمر کے بعد ہوَا پرستی کو اختیار کیا۔ یہ تو کسی عقلمند کی رائے نہ ہو گی اَرَیْنَاکَ اٰیَاتٍ فَلَا عُذْرَ بَعْدَھَا وَاِنْ خِلْتَھَا تُخْفٰی عَلَی النَّاسِ تُظْھَرُ ہم تجھے( کئی)* ایک نشان دکھلاتے ہیں اور اس کے بعد کوئی عذر باقی نہ رہے گا اور اگرتو خیال کرے کہ وہ پوشیدہ رہے گا تو وہ ہرگز پوشیدہ نہ رہے گا اَرَدْتَّ بِمُدٍّ ذِلَّتِیْ فَرَأََیْتَھَا وَمَنْ لَّایُوَقِّرْ صَادِقًا لَّایُوَقَّرُ تو نے مقامِ مُدّ میں میری ذلّت کو چاہا پس خود ذلّت اٹھائی۔ اور جو شخص صادق کی بے عزتی کرتا ہے وہ خود بے عزت ہو جائے گا وَکَاْیِنْظ مِّنَ الٰایَاتِ قَدْ مَرَّ ذِکْرُھَا رَأَیْتُمْ فَاَعْرَضْتُمْ وَقُلْتُمْ تُزَوِّرُ اوربہت سے نشان ہیں جن کا ہم ذکر کر چکے ہیں۔ تم نے وہ نشان دیکھے اور انکار کیا اور کہا کہ جھوٹ بولتا ہے فَعَنَّ لَنَا بَعْدَ التَّجَارِبِ حِیْلَۃٌ لِنَکْتُبَ اَشْعَارًا بِہَا الآيَ تَشْعُرُ پس ہمارے لئے بہت تجارب کے بعد ایک حیلہ ظاہر ہوا تاہم یہ چند شعر لکھیں جن سے تمہیں یہ نشان معلوم ہو جائیں فَھٰذَا ھُوَ التَّبْکِیْتُ مِنْ فَاطِرِالسَّمَا وَھٰذَا ھُوَ الْاِفْحَامُ مِنِّیْ فَفَکِّرُوْا پس اسی ذریعہ سے تمہارا منہ خدا بند کرنا چاہتا ہے۔ اور یہی میری طرف سے اتمامِ حجّت ہے * سہوِ کاتب سے کئی کا لفظ چھوٹ گیا ہے۔ اصل ترجمہ یوں ہو گا۔ ’’ ہم تجھے کئی ایک نشان دکھلاتے ہیں۔‘‘ (شمس) ظ یستعمل لفظ کَاْیِن کما یستعمل کَأَیِّن فی لسان العرب۔ منہ