وَشَنُّوْا عَلَیْھِمْ کُلَّ شَنٍّ بِمَوْطِنٍ فَصَارَ مِنَ الْقَتْلٰی بَرَازٌ مُعَصْفَرُ اور اپنی کوششوں سے خوب ان مشرکوں کو تباہ کیا لڑائی کے میدان میں۔ یہاں تک کہ اُن کُشتوں سے میدان جنگ سُرخ ہوگیا وَکَمْ مِّنْ زِرَاعَاتٍ اُبِیْدَتْ وَمِثْلُھَا بُیُوْتٌ مَبِیْتَاۃٌ وَّ طِرْفٌ مُّصَدِّرُ اور بہت سی کھیتیاں تباہ کی گئیں اور گھر ویران کئے گئے اور وہ گھوڑے جو سب سے آگے نکل جاتے تھے مارے گئے وَاُحْرِقَ مَالُ الْمُشْرِکِِیْنَ وَ حُصِّلَتْ مَغَانِمُ شَتّٰی وَالْمَتَاعُ الْمُوَقَّرُ اور مشرکوں کا گھر بار جلایا گیا۔ اور بہت سی غنیمتیں اور بہت متاع حاصل کئے گئے بِبَدْرٍ وَّاُحْدٍ قَامَ نَوْعُ قِیَامَۃٍ وَکَانَ الصَّحَابَۃْ کَالْاَفَانِیْنِ کُسِّرُوْا بدر میں اور اُحد کی لڑائی میں ایک قیامت برپا تھی۔ اور اصحاب رضی اﷲ عنہم شاخوں کی طر ح توڑے گئے ھَمَتْ مِثْلَ جَرْیَانِ الْعُُُیُوْنِ دِمَاءُ ھُمْ تَسَوَّرَ دِعْصَ الرَّمْلِ مَا کَانَ یَقْطُرُ اور چشموں کی طرح ان کے خون رواں ہو گئے۔ اور ان کا خون ریت کے تودہ کے اوپر چڑھ گیا وَکَانَ بِحُرِّ الرَّمْلِ مَوْقِفُھُمْ فَھُمْ عَلٰی رِسْلِھِمْ بَارَوْا عِدَاھُمْ وَجَمَّرُوْا اور خالص ریت میں ان کے کھڑے ہونے کی جگہ تھی پس انہوں نے بڑے وقار اور آرام سے دشمنوں کا مقابلہ کیا اور لڑائی پر جمے رہے وَ ؔ قَامُوْا لِبَذْلِ نْفُوْسِھِمْ مِنْ صِدْقِھِمْ عَلٰی مَوْطِنٍ فِیْہِ الْمَنِیَّۃُ یَزْءَ رُ اور اپنے صدق سے جان قربان کرنے کے لئے ایسی جگہ کھڑے ہو گئے۔ جس میں موت شیر کی طرح غرّاتی تھی وَصُبَّتْ عَلٰی رَأْسِ النَّبِیِّ مُصِیْبَۃٌ وَدَقُّوْا عَلَیْہِ مْنَ السُّیُوْفِ الْمِغْفَرُ اور آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کے سر پر ایک مصیبت نازل ہوئی۔ اور دشمنوں نے اس کے خَود کو تلواروں سے اس کے سر میں دھنسا دیا مقابلہ کرو تو اس مقابلہ کی کیا ضرورت تھی بلکہ مشرکوں کو کہنا چاہئے تھا کہ تم اپنے شرک میں حق پر ہو اور کلمہ لا الہ الا اللہ غلط ہے اب تم مہربانی کر کے جنگ چھوڑ دو اور ہمیں دکھ نہ دو۔ ہم تم سے بمقابلہ تمہارے کوئی جنگ نہیں کرتے اور ہم مانتے ہیں کہ غیراللہ سے مرادیں مانگناسب سچ ہے اس پر ہمارا کوئی اعتراض نہیں۔ منہ