تَنَاھَی لِسَانُ النَّاسِ عَنْ دَاْبِ فُحْشِھِمْ وَ مِقْوَلُکُمْ یَجْرِیْ وَلَا یَتَحَسَّرُ تمام لوگوں نے بد زبانی کی عادت چھوڑ دی۔ اور تمہاری زبان اب تک *** بازی پر جاری ہو رہی ہے اور نہیں تھکتی اَشَعْتُمْ طَرِیْقَ اللَّعْنِ فِیْ اَھْلِ سُنَّۃٍ فَاَجْرَوْا طَرِیْقَتْکُمْ فَاِنْ شِءْتُمُ انْظُرُوْا تم نے *** بازی کے طریقوں کو اہل سنت والجماعت میں شائع کر دیا۔ پس انہوں نے بھی یہ طریق جاری کر دیا۔ اگر چاہو تو دیکھ لو فَیَالَیْتَ مِتُّمْ قَبْلَ تِلْکَ الطَّرَاءِقِ وَلَمْ یَکُ دِیْنُ اﷲِ مِنْکُمْ یُخَسَّرُ پس کاش ! تم ان تمام طریقوں سے پہلے ہی مر جاتے۔ اور خدا کا دین تمہارے سبب سے تباہ نہ ہوتا جَعَلْتُمْ حُسَیْنًا اَفْضَلَ الرُّسْلِ کُلِّھِمْ وَجُزْتُمْ حُدُوْدَ الصِّدْقِ وَاﷲُ یَنْظُرُ تم نے حسین کو تمام انبیاء سے افضل ٹھہرا دیا۔ اور سچائی کی حدوں سے آگے گذر گئے (اور اﷲ دیکھ* رہا ہے) وَعِنْدَ النَّوَاءِبِ وَالْاَذٰی تَذْکُرُوْنَہُ کَأَنَّ حُسَیْنًا رَبُّکُمْ یَا مُزَوِّرُ اور مصیبتوں اور دکھوں کے وقت تم اسی کو یاد کرتے ہو گویا حسین تمہارا ربّ ہے۔ اے بدبخت جھوٹ بولنے والے! وَخَرَّؔ تْ لَہُ اَحْبَارُکُمْ مِثْلَ سَاجِدٍ فَمَا جُرْمُ قَوْمٍ اَشْرَکُوْا أَوْتَنَصَّرَُوْا اور تمہارے علماء سجدہ کرنے والوں کی طرح اس کے آگے گر گئے۔ پس اب مشرکوں یا نصرانیوں کا کیا گناہ ہے نَسِیْتُمْ جَلَالَ اﷲِ وَالْمَجْدَ وَالْعُلٰی وَمَا وِرْدُکُمْ اِلَّا حُسَیْنٌ اَتُنْکِرُ تم نے خدا کے جلال اور مَجد کو بھلا دیا۔ اور تمہارا وِرد صرف حسین ہے کیا تو انکار کرتا ہے؟ فَھٰذَا عَلَی الْاِسْلَامِ اِحْدَی الْمَصاءِبِ لَدَیْ نَفَحَاتِ الْمِسْکِ قَذْرٌمُّقَنْطَرُ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے وَاِنْ کَانَ ھٰذَا الشِّرْکُُ فِی الدِّیْنِ جَاءِزًا ۃ فَبِاللَّغْوِ رُسْلُ اﷲِ فِی النَّاسِ بُعْثِرُوْا اوراگر شرک دین میں جائز ہے۔ پس خدا کے پیغمبر بیہودہ طور پر لوگوں میں بھیجے گئے وَاَيُّ صَلَاحٍ سَاقَ جُنْدَ نَبِیِّنَا اِلٰی حَرْبِ حِزْبِ الْمُشْرِکِیْنَ فَدَ مَّرُوْا اور کیا غرض تھی کہ ہمارے نبیؐ کا لشکر مقابلہ کے لئے چلا گیا۔ مشرکوں کی لڑائی کے مقابل پر‘ پس ان کو ہلاک کیا ۃ حاشیہ۔ اس شعر کا یہ مطلب ہے کہ جبکہ شرک جائز تھا اور کافروں نے صرف اپنے ان معبودوں کی حمایت میں جو حسین کی طرح غیراللہ تھے مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا تھا جس پرآخر مسلمانوں کو اجازت ہوئی کہ اب تم بھی ان مشرکوں کا * وَاللّٰہُ یَنْظُرُ کا ترجمہ ایڈیشن اول میں لکھنے سے رہ گیا ہے (ناشر)