وَسَوْفَ تَرٰ ی اَنِّیْ صَدُوْقٌ مُؤَیَّدٌ وَلَسْتُ بِفَضْلِ اﷲِ مَااَنْتَ تَسْطُرُ اور عنقریب تُو دیکھے گا کہ میں سچا ہوں اور مدد کیا گیاہوں۔ اور میں خدا کے فضل سے ایسا نہیں جیسا کہ تو لکھتا ہے وَیُبْدِیْ لَکَ الرَّحْمَانُ اَمْرِیْ فَیَنْجَلِیْ اَ اِنِّیْ ظَلَامٌ اَوْ مِنَ اﷲِ نَیِّرُ اور خدا میری حقیقت تیرے پر ظاہر کر ے گا پس کھل جائے گا کہ کیا میں تاریکی ہوں یا نور ہوں اُرِیْکَ وَ غَدَّارَ الزَّمَانِ اَبَا الْوَفَا یَدَاﷲِ فَالضَّوْضَاۃُ یُخْفٰی وَیُسْتَرُ میں تجھے اور غدّارِ زمانہ ثناء اﷲ کو خدا کا ہاتھ دکھلاؤں گا پس شوروفریاد سب موقوف ہو جائے گی وَیَعْلَمُ رَبِّیْ مَنْ تَصَلَّفَ وَافْتَرٰی وَمَنْ ھُوَ عِنْدَاﷲِ بَرٌّمُّطَھَّرُ اور خدا میرا جانتا ہے کہ شریر اور مفتری کون ہے اور کون وہ ہے جو اس کے نزدیک نیک اور پاک ہے اَ تُطْفِئُ نُوْرًا قَدْ اُرِیْدَ ظُھُوْرُہُ لَکَ الْبُھْرُ فِی الدَّارَیْنِ وَ النُّوْرُ یَبْھَرُ کیا تو اس نور کو بجھانا چاہتا ہے جس کا ظاہر کرنا ارادہ کیا گیاہے۔ تجھے دونوں جہانوں میں بدبختی ہے اور نور ظاہر ہو کر رہے گا اَ لَا اِنَّ وَقْتَ الدَّجْلِ وَالزُّوْرِقَدْ مَضٰی وَجَاءَ زَمََانٌ یُحْرِقُ الْکِذْْبَ فَاصْبِرُوْا خبر دار ہو۔ جھوٹ اور فریب کا وقت گذر گیا۔ اور وہ زمانہ آ گیا جو جھوٹے کو جلا دے گا پس صبر کر وَاِنْ کُنْتَ قَدْ جَاوَزْتَ حَدَّ تَوَرُّعٍ فَکَفِّرْ وَ کَذِّبْ اَ یُّہَا الْمُتَھَوِّرُ اور اگر تو پرہیزگاری کی حد سے آگے گذر گیا ہے۔ پس مجھے کافر کہہ اور تکذیب کر۔ اے دلیر آدمی! اَیَا اَ یُّہَا الْمُوْذِیْ خَفِ الْقَادِرَ الَّذِیْ یَشُجُّ رُؤُوْسَ الْمُعْتَدِیْنَ وَیَقْھَرُ اے دکھ دینے والے! اس قادر خدا سے خوف کر۔ جو تجاوز کرنے والوں کا سر توڑتا ہے اور ان پر قہر نازل کرتا ہے اِذَامَا تَلَظّٰی قَھْرُہُ یُہْلِکُ الْوَرٰ ی فَلَیْسَ بِوَاقٍ بَعْدَہُ یَا مُزَوِّرُ جب اس کا قہر بھڑکتا ہے تو لوگوں کو ہلاک کر دیتا ہے۔ پھر اس کے بعد‘ اے مزوّر! کوئی بچانے والا نہیں ہوتا وَلَسْتَ تُرَاعِیْ نَہْجَ رِفْقٍ وَلِیْنَۃٍ کَدَأْبِ ثَنَاءِ اﷲِ تُؤْذِیْ وَتَأْبُرُ اور تو نرمی کی راہ کی رعایت نہیں رکھتا۔ اور مولوی ثناء اﷲ کی طرح نیش زنی کرتا ہے