نَطَقْتَ بِکِذْبٍ اَیُّہَا الْغُوْلُ شَقْوَۃً
خَفِ اﷲَ یَاصَیْدَ الرَّدٰ ی کَیْفَ تَجْسُرُ
اے دیو! تو نے بدبختی کی وجہ سے جھوٹ بولا۔ اے موت کے شکار ! خدا سے ڈر کیوں دلیری کرتا ہے
اَ تَقْصِدُ عِرْضِیْ بِالْاَکَاذِیْبِ وَالْجَفَا
وَاَنْتَ مِنَ الدَّیَّانِ لَا تَتَسَتَّرُ
کیا جھوٹی باتوں کے ساتھ میری آبرو کا قصد کرتا ہے؟ اور تو سزا دینے والے سے پوشیدہ نہیں ہے
وَاِنْ تَضْرِبَن علی الصَّلَاتِ زُجَاجَۃً
فَلَا الصَّخْرُ بَلْ اِنَّ الزُّجَاجَۃَ تُکْسَرُ
اور اگر تو شیشہ کو پتھر پر مارے تو پتھر نہیں بلکہ شیشہ ہی ٹوٹے گا
تَعَالٰی مَقَامِیْ فَاخْتَفٰی مِنْ عُیُونِکُمْ
وَکُلُّ رَفِیْعٍ لَا مَحَالَۃَ یُسْتَرُ
میرا مقام بلند تھا پس تمہاری آنکھوں سے پوشیدہ ہو گیا۔ اور ہر ایک دُور اور بلند بِالضرور پوشیدہ ہو جاتا ہے
وَ ؔ فِیْ حِزْبِکُمْ اِنَّا نَرٰی بَعْضَ ٰایِنَا
فَاِنَّا دَعَوْنَا حِزْبَکُمْ فَتَأَخَّرُوْا
ہم نے تمہارے گروہ میں بعض نشان اپنے پائے۔ کیونکہ ہم نے تمہارے گروہ کو بلایا اور وہ پیچھے ہٹ گئے
تَبَصَّرْ خَصِیْمِیْ ھَلْ تَرٰی مِنْ مَّطَاعِنٍ
عَلَیَّّ خُصُوْصًا غَیْرَ قَوْمٍ تُطَھِّرُ
اے میرے دشمن! تو سوچ لے کہ کیا ایسے بھی اعتراض ہیں جو خاص مجھ پر وارد ہوتے ہیں۔ اور دو سرے نبیوں پر وارد نہیں ہوئے جن کو تو پاک سمجھتا ہے
وَاَرْسَلَنِیْ رَبِّیْ بِآیَاتِ فَضْلِہِ
لِاَعْمُرَ مَاھَدَّ اللِّءَامُ وَدَعْثَرُوْا
اور خدا نے اپنے نشانوں کے ساتھ مجھے بھیجاہے تاکہ میں اس عمارت کو بناؤں جو لئیموں نے اس کو توڑا اور ویران کیا
وَفِیْ الدِّیْنِ اَسْرَارٌ وَّسُبْلٌ خَفِیَّۃٌ
وَیُظْھِرُھَا رَبِّیْ لِعَبْدٍ یُخَیِّرُ
اور دین میں بھید ہیں اور پوشیدہ راہیں ہیں اور میرا ربّ وہ بھید اس بندہ پر ظاہر کرتا ہے جس کو چن لیتا ہے
وَکَمْ مِّنْ حَقَاءِقْ لَا یُرٰ ی کَیْفَ شَبْحُھَا
کَنَجْمٍ بَعِیْدٍ نُوْرُھَا یَتَسَتَّرُ
اور بہت سی حقیقتیں ہیں جو ان کی صورت نظر نہیں آتی۔ اس ستارہ کی طرح جو دور تر ہے۔ بباعث دوری ان حقائق کا نور چھپ جاتا ہے
فَیَأْتِیْ مِنَ اﷲِ الْعَلِیْمِ مُعَلِّمٌ
وَیَہْدِیْ اِلٰی اَسْرَارِھَا وَیُفَسِّرُ
پس خدا کی طرف سے ایک معلّم آتا ہے۔ اور اس کے بھید ظاہر کرتا ہے اور بیان فرماتا ہے
وَ اِنْ کُنْتَ قَدْ آلَیْتَ اَنَّکَ تُنْکِرُ
فَکِدِنِیْ لِمَا زَوَّرْتَ فَالْحَقُّ یَظْھَرُ
اور اگر تو نے قسم کھا لی ہے کہ تو انکار کرتا رہے گا۔ پس تو جس طرح چاہے اپنی دروغ بازی سے فریب کر اور حق ظاہر ہو کر رہے گا