فَکِیْدُوْاجَمِیْعَ الْکَیْدِ یَااَیُّہَا الْعِدَا فَیَعْصِمُنِیْ رَبِّیْ وَھٰذَا مُقَدَّرُ پس ہر ایک قسم کا مکر مجھ سے کرو اے دشمنو! پس میرا خدا مجھے بچائے گا اور یہی مقدّر ہے مَضٰی وَقْتُ ضَرْبِ الْمُرْھِفَاتِ وَ دَفْوُھَا وَاِنَّا بِبُرْھَانٍ مِّنَ اﷲِ نَنْحَرُ وہ وقت گذر گیا جب کہ تلواریں چلائی جاتی تھیں۔ اور ہم خدا کی برہان سے منکروں کو ذبح کرتے ہیں وَلِلّٰہِ سُلْطَانٌ وَّحُکْمٌ وَّشَوْکَۃٌ وَنَحْنُ کُمَاۃ ٌ بِالْاِشَارَۃِ نَحْضُرُ اور خدا کے لئے تسلّط اور حکم اور شوکت ہے۔ اور ہم وہ سوار ہیں جو اشارہ پر حاضر ہوتے ہیں اِذَاؔ مَا رَأَیْنَا حَاءِرًا اَجْھَلَ الْوَرَی طَوَیْنَا کِتَابَ الْبَحْثِ وَالآیُ اَظْھَرُ اور جب میں نے علی حائری جو سب سے جاہل تر ہے* دیکھانشان جو ہم پیش کرتے ہیں وہ ظاہر ہیں ‘پھر بحث کی کیا حاجت؟ وَمَا کُنْتُ بِالصَّمْتِ الْمُخَجِّلِ رَاضِیاً وَلٰکِنْ رَّأَیْتُ الْقَوْمَ لَمْ یَتَبَصَّرُ اور میں شرمندہ کرنے والی خاموشی پر راضی نہ تھا۔ مگر میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ کچھ سوچتے نہیں اُخَاطِبُ جَھْرًا لَااَقُوْلُ کَخَافِتٍ فَاِنِّیْ مِنَ الرَّحْمٰنِ اُوْحٰی وَاُخْبَرُ میں کھلے کھلے مخاطب کرتا ہوں نہ پوشیدہ قول سے کیونکہ میں خدا کی طرف سے وحی پاتا اور خبر دیا جاتا ہوں اَیَا عَابِدَ الْحَسْنَیْنِ اِیَّاکَ وَاللَّظٰی وَمَالَکَ تَخْتَارُ السَّعِیْرَ وَ تَشْعُرُ اے حُسین اور حَسن کی عبادت کرنے والے! دوزخ کی آگ سے پرہیز کر۔ تجھے کیا ہو گیا کہ دوزخ کو اختیار کرتا ہے اور جانتا ہے وَاَنْتَ امْرَءٌ مِّنْ اَھْلِ سَبٍّ وَّاِنَّنَا رِجَالٌ لِاِظْھَارِ الْحَقَاءِقِ نُؤْمَرُ اور تُو وہ آدمی ہے کہ گالیاں دیتا ہے اور ہم لوگ وہ آدمی ہیں جو حقیقتوں کے ظاہر کرنے کے لئے حکم دیئے جاتے ہیں سَبَبْتَ وَاِنَّ السَّبَّ مِنْ سُنْنِ دِیْنِکُمْ لِکُلِّ أُنَاسٍ سُنَّۃٌ لَّا تُغَیَّرُ تو نے گا لیاں دیں اور گالیاں دینا تمہارا طریق ہے اور ہر ایک آدمی کے لئے ایک طریق ہے جو نہیں بدلتا تَرٰی سُُقْمَ نَفْسِیْ مَا تَرٰی آيَ رَبِّنَا کَاَنَّکَ غُوْلٌ فَاقِدُ الْعَیْنِ اَعْوَرُ تُو میرے نفس کا عیب دیکھتا ہے اور خدا کے نشان نہیں دیکھتا۔ گویا تو ایک دیو ہے‘ آنکھ کھوئی والا‘ یک چشم * ترجمہ میں کچھ الفاظ سہو کاتب سے رہ گئے ہیں۔ اصل میں ترجمہ یوں ہو گا۔ ’’ اور جب میں نے علی حائری کو جو سب سے جاہل تر ہے کو دیکھا تو (کہا کہ)۔ ‘‘ (شمس ؔ )