اَ تَزْعَمُ اَنَّ رْسُوْلَنَا سَیِّدَ الْوَرٰ ی
عَلٰی زَعْمِ شَانِیْہِ تُوُُفِّیَ اَبْتَرُ
کیا تو گمان کرتا ہے کہ ہمارے رسول اﷲ صلی علیہ وسلم نے بے اولاد ہونے کی حالت میں وفات پائی جیسا کہ دشمن بدگو کا خیال ہے
فَلَا وَالَّذِیْ خَلْقَ السَّمَاءَ لِأَجْلِہِ
لَہُ مِثْلُنَا وُلْدٌ اِلٰی یَوْمِ یُحْشَرُ
مجھے اس کی قسم جس نے آسمان بنایا کہ ایسا نہیں ہے بلکہ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کیلئے میری طرح اور بھی بیٹے ہیں اور قیامت تک ہوں گے
وَاِنَّا وَرِثْنَا مِثْلَ وُلْدٍ مَتَاعَہُ
فَاَیُّ ثُبُوْتٍ بَعْدَ ذٰلِکَ یُحْضَرُ
اور ہم نے اولاد کی طرح اس کی وراثت پائی۔ پس اس سے بڑھ کر اور کون سا ثبوت ہے‘ جو پیش کیا جائے؟
لَہٗ ؔ خَسَفَ الْقَمْرُ الْمُنِیْرُ وَاِنَّ لِیْ
غَسَا الْقَمَرَانِ الْمُشْرِقَانِ أَ تُنْکِرُ
اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا؟
وَکَانَ کَلَامٌ مُعْجِزٌآیَۃً لَّہُ
کَذٰلِکَ لِیْ قَوْلِیْ عَلَی الْکُلِّ یَبْھَرُ
اور اس کے معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا۔ اسی طرح مجھے وہ کلام دیا گیا جو سب پر غالب ہے
اِذَا الْقَوْمُ قَالُوْا یَدَّعِی الْوَحْیَ عَامِدًا
عَجِبْتُ فَاِنِّیْ ظِلُّ بَدْرٍ یُنَوِّرُ
جب قوم نے کہا کہ یہ تو عمد اً وحی کا دعویٰ کرتا ہے۔ میں نے تعجب کیا کہ میں تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کاظل ہوں
وَ اَنّٰی لِظِلٍّ اَنْ یُّخَالِفَ اَصْلَہُ
فَمَا فِیْہِ فِیْ وَجْھِیْ یَلُوْحُ وَیَزْھَرُ
اور سایہ کیونکر اپنے اصل سے مخالف ہو سکتا ہے۔ پس وہ روشنی جو اس میں ہے وہ مجھ میں چمک رہی ہے
وَاِنِّیْ لَذُوْنَسْبٍ کَاَصْلٍ اُطِیْعُہُ
وَمِنْ طِیْنِہِ الْمَعْصُوْمِ طِیْنِیْ مُعَطَّرُ
اور میں محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرح ذونسب ہوں۔ اور اس کی پاک مٹی کا مجھ میں خمیر ہے
کَفَی الْعَبْدَ تَقْوَی الْقَلْبِ عِنْدَ حَسِیْبِنَا
وَلَیْسَ لِنَسْبٍ ذُوْصَلَاحٍ مُعَیِّرُ
اور بندہ کو دل کا تقویٰ کافی ہے اور ایک صالح کو اس لئے سرزنش نہیں کر سکتے کہ اس کی نسب اعلیٰ نہیں
وَلٰکِنْ قَضٰی رَبُّ السَّمَا لِاَءِمَّۃٍ
لَھُمْ نَسَبٌ کَیْلَا یَہِیْجَ التَّنَفُّرُ
مگر خدا نے اماموں کے لئے چاہا کہ وہ ذونسب ہوں تاکہ لوگوں کو ان کی کمیء نسب کا تصور کر کے نفرت پیدا نہ ہو
وَمَنْ کَانَ ذَا نَسْبٍ کَرِیْمٍ وَلَمْ یَکُنْ
لَہُ حَسَبٌ فَھْوَ الدَّنِیُّ الْمُحَقَّرُ
اور جو شخص اچھی نسب رکھتا ہے مگر اس میں ذاتی صفات کچھ نہیں تو وہ کمینہ اور حقیر ہے