وَ ؔ لِیْ دَعَوَاتٌ صَاعِدَاتٌ اِلَی السَّمَا وَلِیْ کَلِمَاتٌ فِی الصَّلَایَۃِ تَقْعَرُ اور میری وہ دُعائیں ہیں جو آسمان پرچڑھ رہی ہیں۔ اور میری وہ باتیں ہیں جو پتھر میں دھس جاتی ہیں وَ اُعْطِیْتُ تَأْثِیْرًا مِّنَ اﷲِ خَالِقِیْ وَ تَأْوِیْ اِلٰی قَوْلِیْ قُلُوْبٌ تُطَھَّرُ اور مَیں خدا سے‘ جو میرا پیدا کرنے والا ہے‘ ایک تاثیر دیا گیا ہوں۔ اور میری طرف پاک دل میل کرتے ہیں وَ اِنَّ جَنَانِیْ جَاذِبٌ بِصِفَاتِہِ وَ اِنَّ بَیَانِیْ فِی الصُّخُوْرِ یُؤَثِّرُ اور میرا دل اپنے صفات کے ساتھ کشش کر رہا ہے۔ اور میرا بیان پتھروں میں تاثیر کرتا ہے حَفَرْتُ جِبَالَ النَّفْسِ مِنْ قُوَّۃِ الْعُلٰی فَصَارَ فُؤَادِیْ مِثْلَ نَہْرٍ تُفَجَّرُ میں نے نفس کے پہاڑوں کو آسمانی طاقت سے کھوددیا۔ پس میرا دل اس نہر کی طرح ہو گیا جو جاری کی جاتی ہے وَ اُعْطِیْتُ مِنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ مِّنَ الْھُدٰی فَکُلَّ بَیَانٍ فِی الْقُلُوْبِ اُصَوِّرُ اور مجھے ایک نئی پیدائش ہدایت کی دی گئی۔ پس میں ہر ایک بیان دلوں میں نقش کر دیتا ہوں فَرِیْقٌ مِّنَ الْاَحْرَارِ لَایُنْکِرُوْنَنِیْ وَ حِزْبٌ مِّنَ الْاَشْرَارِ آذَوْا وَ اَنْکَرُُوْا ایک گروہ منصف مزاجوں کا مجھ سے انکار نہیں کرتا۔ اور ایک گروہ شریروں کا دُکھ دے رہے ہیں اور انکار کرتے ہیں وَ قَدْ زَاحَمُوْا فِیْ کُلِّ اَمْرٍاَرَدْتُّہُ فَاَیَّدَنِیْ رَبِّیْ فَفَرُّوْا وَ اَدْبَرُوْا اور ہر ایک امر جس کا میں نے ارادہ کیا اس کی انہوں نے مزاحمت کی۔ پس خدا نے میری مدد کی۔ پس بھاگ گئے اور مُنہ پھیر لیا وَ کَیْفَ عَصَوْا وَاﷲِ لَمْ یُدْرَ سِرُّھَا وَ کَانَ سَنَا بَرْقِیْ مِنَ الشَّمْسِ اَظْھَرُ اور کیوں نافرمان ہو گئے؟ اس کا ‘ بخدا ! بھید کچھ معلوم نہ ہوا اور میری برق کی روشنی سورج سے بھی زیادہ ظاہر تھی لَزِمْتُ اصْطِبَارًا عِنْدَ جَوْرِ لِءَامِھِمْ وَ کَانَ الْاَقَارِبْ کَالْعَقَارِبِ تَأْبُرُ میں نے ان کے ظلم کی برداشت کی اور اس پر صبر کیا اور اقارب عقارب کی طرح نیش زنی کرتے تھے وَ یَعْلَمُ رَبِّیْ سِرَّقَلْبِیْ وَسِرَّھُمْ وَکُلُّ خَفِیٍّ عِنْدَہُ مُتَحَضِّرُ اور میرا ربّ میرے بھید اور اُن کے بھید کو جانتا ہے اور ہر ایک پوشیدہ اُس کے نزدیک حاضر ہے وَ لَیْسَ لِعَضْبِ الْحَقِّ فِی الدَّھْرِ کَاسِرا وَ مَنْ قَامَ لِلتَّکْسِیْرِ بَغْیًا فَیُکْسَرُ اور خدا کی تلوار کو کوئی توڑنے والا نہیں اور جو توڑنا چاہے وہ خود ٹوٹ جائے گا