تَرَاءَ تْ غَوَایَاتٌ کَرِیْحٍ مُّجِیْحَۃٍ وَاَرْخٰی سَدِیْلَ الْغَیِّ لَیْلٌ مُّکَدَّرُ گمراہیاں ایک آندھی کی طرح ظاہر ہو گئیں ایسی آندھی جو درختوں کو جڑ سے اکھاڑتی ہے۔ اور ایک تاریک رات نے گمراہی کے پردے نیچے چھوڑ دیئے تَہُبُّ رِیَاحٌ عَاصِفَاتٌ کَأَنَّہَا سِبَاعٌ بِاَرْضِ الْھِنْدِ تَعْوِیْ وَتَزْءَ رُ سخت آندھیاں چل رہی ہیں گویا کہ وہ درندے ہیں ملکِ ہند میں جو بھیڑیئے اور شیر کی آواز نکال رہے ہیں اَرَی الْفَاسِقِیْنَ الْمُفْسِدِیْنَ وَزُمْرَھُمْ وَقَلَّ صَلَاحُ النَّاسِ وَالْغَیُّ یَکْثُرُ میں فاسقوں اور مفسدوں کی جماعتوں کی جماعتیں دیکھ رہا ہوں۔ اور نیکی کم ہو گئی اور گمراہی بڑھ گئی أَرٰی عَیْنَ دِیْنِ اﷲِ مِنْہُمْ تَکَدَّرَتْ بِہَا الْعِیْنُ وَ الْآرَامُ تَمْشِیْ وَتَعْبَُرُ میں دین الٰہی کے چشمہ کو دیکھتا ہوں کہ مکدّر ہو گیا۔ اور اس میں وحشی چارپائے چل رہے اور عبور کر رہے ہیں اَرَی الدِّیْنَ کَالْمَرْضٰی عَلَی الْاَرْضِ رَاغِمًا وَکُلُّ جَھُوْلٍ فِی الْھَوٰی یَتَبَخْتَرُ میں دین کو دیکھتا ہوں کہ زمین* پر پڑا ہوا ہے۔اور ہر ایک جاہل اپنی ہَوَا و ہوس کے جوش میں ناز کے ساتھ چل رہا ہے وَمَا ھَمُّھُمْ اِلَّا لِحَظِّ نُفُوْسِھِمْ وَمَا جُھْدُھُمْ اِلَّا لِحَظٍّ یَُّوَفَّرُ اور ان کی ہمتیں اس سے زیادہ نہیں کہ وہ نفسانی حظوظ کے طالب ہیں۔ اور ان کی کوششیں اس سے بڑھ کر نہیں کہ و ہ حظِّ نفسانی کثرت سے چاہتے ہیں نَسُوْا نَہْجَ دِیْنِ اﷲِ خُبْثًا وَّ غَفْلَۃً وَ قَدْ سَرَّھُمْ سُکْرٌ وَّ فِسْقٌ وَّ مَیْسِرُ (انہوں) نے دین کی راہ کوُ خبث اور غفلت کی وجہ سے بھُلا دیا۔ اور ان کو مستی اور بدکاری اور قمار بازی پسند آ گئی أَرَی فِسْقَھُمْ قَدْْ صَارَ مِثْلَ طَبِیْعَۃٍ وَمَا اِنْ أَرَی عَنْہُمْ شَقَاھُمْ یُقَشَّرُ میں دیکھتا ہوں کہ ان کافسق طبیعت میں داخل ہو گیا۔ میرے نزدیک اب بظاہر غیر ممکن ہے کہ ان کی شقاوت ان سے الگ کر دی جائے فَلَمَّا طَغَی الْفِسْقُ الْمُبِیْدُ بِسَیْلِہِ تَمَنَّیْتُ لَوْکَانَ الْوَبَاءُ الْمُتَبِّرُ پس جبکہ فسق ہلاک کنندہ ایک طوفان کی حد تک پہنچ گیا تو میں نے آرز و کی کہ مُلک میں طاعون پھیلے اور ہلاک کرے فَاِنَّ ھَلَاکَ النَّاسِ عِنْدَ اُولِی النُّہٰی اَحَبُّ وَاَوْلٰی مِنْ ضَلَالٍ یُّدَمِّرُ کیونکہ لوگوں کا مر جانا عقلمندوں کے نزدیک اس سے بہتر ہے کہ گمراہی کی موت اُن پر آوے * سہو کاتب سے کالمرضٰی کا ترجمہ رہ گیا ہے۔ اصل ترجمہ یوں ہو گا۔ ’’مَیں دین کو دیکھتا ہوں کہ وہ بیمار کی طرح زمین پر پڑا ہوا ۔‘‘ (شمس)