وَ قَالُوْا اِلَی الْمَوْعُوْدِ لَیْسَ بِحَاجَۃٍ فَاِنَّ کِتَابَ اﷲِ یَہْدِیْ وَُ یخْبِرُ اور انہوں نے کہا کہ مسیح موعود کی طرف کچھ حاجت نہیں۔کیونکہ اﷲ کی کتاب ہدایت دیتی اور خبر دیتی ہے وَمَاھِیَ اِلَّا بِالْغَیُوْرِ دُعَابَۃٌ فَیَاعَجَبًا مِّنْ فِطْرَۃٍ تَتَھَوَّرُ اور یہ تو خدائے غیور کے ساتھ ہنسی ٹھٹھا ہے۔ پس ایسی بیباک فطرتوں پر تعجب آتا ہے وَقَدْ جَاءَ قَوْلُ اﷲِ بِالرُّسْلِ تَوْأَمًا وَمِنْ دُوْنِہِمْ فَھْمُ الْھُدٰی مُتَعَسِّرُ اور اصل حقیقت یہ ہے کہ خدا کا کلام اور رسول باہم تَوَام ہیں۔ اور اُن کے بغیر خدا کے کلام کا سمجھنا مشکل ہے فَاِنَّ ظُبَی الْاَسْیَافِ تَحْتَاجُ دَاءِمًا اِلٰی سَاعِدٍ یُّجْرِی الدِّمَاءَ وَ یُنْدِرُ کیونکہ تلواروں کی دھار ہمیشہ ایسے بازو کی محتاج ہے جو خون کو جاری کرتا اور سر کو بدن سے الگ کر دیتا ہے بِعَضْبٍ رَّقِیْقِ الشَّفْرَتَیْنِ ھَزِیْمَۃٌ اِذَا نَاشَہُ طِفْلٌ ضَعِیْفٌ مُّحَقَّرُ تلوار گوباریک دھاریں رکھتی ہو مگر تب بھی شکست ہو گی۔ جبکہ اس کو کمزور اور حقیر بچہ ہاتھ میں پکڑے گا وَ اَ مَّا اِذَا اَخْذَ الْکَمِیُّ مُفَقِّرًا کَفَی الْعَوْدَ مِنْہُ الْبَدْءُ ضَرْبًا وَّ یَنْحَرُ لیکن جب ایک بہادر آدمی ایک سخت تلوار کو پکڑے تو اس کا پہلا وار دوسرے وار کی حاجت نہیں رکھے گا اور ذبح کر دے گا اِذَا قَلَّ تَقْوَی الْمَرْءِ قَلَّ اقْتِبَاسُہُ مِنَ الْوَحْیِ کَالسَّلْخِ الَّذِیْ لَا یُنَوِّرُ جب انسان کی تقویٰ کم ہو جاتی ہے تو خدا کی کلام سے استنباط اور اقتباس اس کا بھی کم ہو جاتا ہے جیسا کہ مہینہ کی آخری رات میں کچھ روشنی نہیں رہتی فَیَا اَسَفَا اَیْنَ التُّقَاۃُ وَاَرْضُھَا وََاِنِّیْ اَرٰی فِسْقًا عَلَی الْفِسْقِ یَظْھَرُ پس افسوس! کہاں ہے تقویٰ اور کہاں ہے زمین اس کی اور میں دیکھتا ہوں کہ فسق پر فسق ظاہر ہو رہا ہے أَرَی ظُلُمَاتٍ لَّیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَھَا وَ ذُ قْتُ کُءُوْسَ الْمَوْتِ اَوْکُنْتُ اُنْصَرُ اور میں وہ تاریکیاں دیکھتا ہوں کہ کاش میں ان سے پہلے مر جاتا۔ اور موت کے پیالے چکھ لیتا اور یا مدد دیا جاتا أَرَی کُلَّ مَحْجُوْبٍ لِدُنْیَاہُ بَاکِیًا فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَبْکِیْ لِدِیْنٍ یُحَقَّرُ میں ہر ایک محجوب کو دیکھتا ہوں جو اپنی دُنیا کے لئے رو رہا ہے۔ پس کون ہے جو ا س دین کے لئے روتا ہے جس کی تحقیر کی جاتی ہے وَلِلدِّؔ یْنِ اَطْلَالٌ اَرَاھَا کَلَاھِفٍ وَ دَمْعِیْ بِذِکْرِ قُصُوْرِہٖ یَتَحَدَّرُ اور دین کے لئے شکستہ ریختہ نشان باقی ہیں جن کو میں حسرت کے ساتھ دیکھ رہا ہوں اور اُس کے محلّوں کو یاد کر کے میرے آنسو جاری ہیں