وَکُنْتُ اَرَی الْاِ سْلَامَ مِثْلَ حَدِیْقَۃٍ مُبَعَّدَۃٍ مِّنْ عَیْنِ مَاءٍ یَُّنَضِّرَُ اور میں اسلام کو اس باغ کی طرح دیکھتا تھا جو اس چشمہ سے دو ر ہو جو ترو تازہ کرتا ہے فَمَازِلْتَُ اَسْقِیْھَا وَ اَسْقِیْ بِلَادَھَا مِنَ الْمُزْنِ حَتّٰی عَادَ حِبْرٌ مُّدَعْثَرُ پس میں اس باغ کو پانی دیتا رہا اور اس کی زمینوں کو آسمانی بارش کا پانی دیا یہاں تک کہ اس کی خوبصورتی ویران شدہ عود کر آئی وَجَاشَتْ اِلَیَّ النَّفْسُ مِنْ فِتْنَۃِ الْعِدَا فَاَنْزَلَ رَبِّیْ حَرْبَۃً لَّا تُکَسَّرُ اورمیرا دل دشمنوں کے فتنہ سے نکلنے لگا۔ پس نازل کیا میرے ربّ نے ایک حربہ جو توڑا نہیں جائے گا فَاَصْبَحْتُ اَسْتَقْرِی الرِّجَالَ رِجَالَھُمْ لِاُفْحِمَ قَوْمًا جَابِرِیْنَ وَ اُنْذِرُ پس میں نے صبح کی اور اُن لوگوں کی تلاش میں لگ گیا۔ تا میں ظالموں پر اتمامِ حجت کروں وَقَدْ کَانَ بَابُ اللُّدِّ مَرْکَزَ حَرْبِہِمْ کَلَامٌ مُّضِلٌّ لَّاحُسَامٌ مُشَھَّرُ اور ان کا طرز جنگ صرف زبانی خصومت تھی یعنی محض گمراہ کرنے والی باتوں کو پیش کرتے اور مذہب کے لئے تلوار کی لڑائی نہ تھی فَوَافَیْتُ مَجْمَعْ لُدِّھِم وَقَتَلْتُھُمْ بِضَرْبٍ وَّلَمْ اَکْسَلْ وَلَمْ اَتَحَسَّرُ پس میں لڑنے والوں کے مجمع میں آیا اور ایک ہی ضرب سے انہیں قتل کر دیا اور نہ میں سُست ہوا اور نہ ماندہ ہوا وَاِنِّیْ اَنَا الْمَوْعُوْدُ وَالْقَاءِمُ الَّذِیْ بِہِ تُمْلَأَنَّ الْاَرْضُ عَدْلًا وَّ تُثْمِرُ اور میں مسیح موعود اور وہ امامِ قائم ہوں جو زمین کو عدل سے بھرے گا اور ویران جنگلوں کو پھل دار کرے گا بِنَفْسِیْ تَجَلَّتْ طَلْعَۃُ اﷲِ لِلْوَرٰی فَیَاطَالِبِیْ رُشْدٍ عَلٰی بَابِیَ احْضُرُُوْا میرے ساتھ صورت خدا کی خلقت پر ظاہر ہو گی۔ پس اے ہدایت کے طالبو! میرے دروازے پر حاضر ہو جاؤ خُذُوْا حَظَّکُمْ مِّنِّیْ فَاِنِّیْ اِمَامُکُمْ اُذَکِّّرُکُمْ اَ یَّامَکُمْ وَاُبَشِّرُ اپنا حصّہ مجھے سے لے لو کہ میں تمارا امام ہوں۔ تمہیں تمہارے دن یاد دلاتا ہوں اور بشارت دیتا ہوں وَقَدْ جِءْتُکُمْ یَا قَوْمِ عِنْدَ ضَرُوْرَۃٍ فَھَلْ مِنْ رَشِیْدٍ عَاقِلٍ یَّتَدَبَّرُ اور اے میری قوم!میں ضرورت کے وقت تمہارے پاس آیا ہوں۔ پس کیا کوئی تم میں رشید اور عقلمند ہے جو اس بات کو سوچے وَمَاؔ الْبِرُّ اِلَّا تَرْکُ بُخْلٍ مِّنَ التُّقٰی وَمَا الْبُخْلُ اِلَّا رَدُّ مَنْ یَّتَبَقَّرُ اور نیکی بجز اس کے کوئی چیز نہیں کہ تقویٰ کی راہ سے بخل کو دور کر دیا جاوے۔ اور بُخل بجز اس کے کچھ نہیں کہ جس کا علم وسیع اور کامل ہے اور اپنے سے بہتر ہے اس کو قبول نہ کیا جائے