فَلَمَّا اَجَزْنَا سَاحَۃَ الْکِبْرِ کُلَّھَا اَ تَانِیْ مِنَ الرَّحْمٰنِ وَحْیٌ یُّکَبِّرُ پس جبکہ ہم تکبّر کے میدان سے بہت دور نکل گئے اور سب میدان طے کر لیا۔ تب خدا کی وحی میرے پاس آئی جس نے مجھے بڑا بنا دیا اِذَا قِیْلَ اِنَّکْ مُرْسَلٌ خِلْتُ اَ نَّنِیْ دُعِیْتُ اِلٰی اَمْرٍ عَلَی الْخَلْقِ یَعْسُرُ جب یہ کہا گیا کہ تُو خدا کی طرف سے بھیجا گیا۔ تو میں نے خیال کیا کہ میں ایسے امر کی طرف بُلایا گیا کہ جو لوگوں پر بھاری ہو گا وَلَوْ اَنَّ قَوْمِیْ ٰا نَسُوْنِیْ کَطَالِبٍ دَعَوْتُ لِیُعْطَوْا عَیَْنَ عَقْلٍ وَبُصِّرُوْا اور اگر میرے پاس میری قوم طالب کی طرح آتی۔ تو میں دعا کرتا کہ ان کو عقل دی جائے اور بینائی بخشی جائے وَ ٰلٰکِنَّہُمْ عَابُوْا وَ ٰاذَوْا وَ زَوَّرُوْا وَ حَثُّوْا عَلَيَّ الْجَاھِلِیْنَ وَ ثَوَّرُوْا مگر انہوں نے عیب جوئی کی اور دُکھ دیا اور دروغ آرائی کی۔ اور جاہلوں کو میرے پر برانگیختہ کیا وَعَیَّرَنِی الْوَاشُوْنَ مِنْ غَیْرِ خُبْرَۃٍ وَنَاشُوْا ثِیَابِیْ مِنْ جُنُوْنٍ وَّ اعْذَرُوْا اور نکتہ چینوں نے بغیر آزمائش اور آگاہی کے مجھے سرزنش کی۔ اور جنون سے میرے کپڑے پکڑ لئے اور اس کام میں میرا* مبالغہ کیا عَجِبْتُ لَھُمْ فِیْ حَرْبِنَا کَیْفَ خَالَطُوْا وَلَمْ یَبْقَ ضِغْنٌ بَیْنَہُمْ وَتَنَمُّرُ میں نے ان سے تعجب کیا کہ ہماری لڑائی میں وہ کیسے باہم مل گئے۔ اور ان کے درمیان باہم کوئی درندگی اور کینہ نہ رہا وَ قَضَّوْا مَطَاعِنْ بَیْنَہُمْ ثُمَّ اَصْدَرُوْا اِلَیْنَا الْاَسِنَّۃْ وَالْخَنَاجِرَ شَھَّرُوْا ایک مُدّت تک تو ایک دوسرے پر طعن کرتے رہے۔ پھر ہماری طرف انہوں نے نیزے پھیر دیئے اور تلواریں کھینچیں فَقُلْتُ لَھُمْ یَا اَ یُّہَا النَّاسُ مَالَکُمْ اَثَرْتُمْ غُبَارًا مِّنْ کَلَامٍ یُّزَوَّرُ پس میں نے اُن سے کہا کہ اے لوگو! تمہیں کیا ہو گیا۔ تم نے ایک جھوٹی بات سے اس قدر غبار انگیزی کی عَلَی الْحُمْقِ جَیَّاشُوْنَ مِنْ غَیْرِ فِطْنَۃٍ کَمَا زَلَّتِ الصَّفْوَاءُ حِیْنَ تُکَوَّرُ محض حماقت سے جوش کرنے والے بغیر دانائی کے۔ جیسا کہ ایک صاف پتھر نیچے پھینکنے سے جلد تر نیچے کو پھسل جاتا ہے فَمَاؔ بَرِحَتْ اَقْدَامُنَا مَوْطِنَ الْوَغٰی وَمَا ضَعُفَتْ حَتّٰی اَعَانَ الْمُظَفِّرُ پس ہمارے قدم جنگ گاہ سے الگ نہ ہوئے اور نہ ہم تھکے یہاں تک کہ خدا نے ہمیں فتح دی * سہو کاتب ہے۔ دراصل یہ لفظ ’’سراسر‘‘ ہے ۔ (شمسؔ )