نَبَذْتُمْ کَلَامَ اﷲِ خَلْفَ ظُھُوْرِکُمْ
تَرَکْتُمْ یَقِیْنًا لِلظُّنُوْنِ فَفَکِّرُوْا
تم لوگوں نے کلام اﷲ کو پسِ پشت ڈال دیا اور تم نے ظنّ کی خاطر یقین کو چھوڑ دیا اب سوچ لو۔
فَصَارَ کَآثَارٍ عَفَتْ وَ تَغَیَّبَتْ
مَدَارُ نَجَاۃِ النَّاسِ یَا مُتَکَبِّرُ
پس قرآن ایسا ہو گیا جیسا کہ آثار محوشدہ اور چُھپ گیا وہی تو مدارِ نجات تھا۔ اے متکبر!
وَاِنَّ شِفَاءَ النَّاسِ کَانَ بَیَانُہُ
فَھَلْ بَعْدَہُ نَحْوَالظُّنُوْنِ نُبَادِرُ
اور اُس کا بیان لوگوں کے لئے شفا تھی پس کیا ہم قرآن چھوڑ کر ظنّوں کی طرف دوڑیں؟
وَ فَاضَتْ دُمُوْعُ الْعَیْنِ مِنِّیْ تَأَلُّمًا
اِذَا مَا سَمِعْتُ الْبَحْثَ یَا مُتَھَوِّرُ
پس اِس خیال سے میرے آنسو جاری ہو گئے جب میں نے تیری بحث کو اے بیباک ! سُنا۔
کَذَبْتَ بِمَُدٍّ عَامِدًا فَتَمَایَلَتْ
عَلَیْکَ شَطَایِبْ جَاھِلِیْنَ وَثَوَّرُوْا
تُو نے موضع مُدّ میں قصدًا جھوٹ بولا پس جاہل لوگ تیری طرف جُھک گئے اور شور ڈالا۔
وَ وَاﷲِ فِی الْقُرْاٰنِ کُلُّ حَقِیْقَۃٍ
وَ آیَاتُہُ مَقْطُوْعَۃٌ لَّا تَغَیَّرُ
اور بخدا ! قرآن شریف میں ہر ایک حقیقت ہے اور اُس کی آیتیں قطعی ہیں جو بدلتی نہیں
مَعِیْنٌ مَّعِیْنُ الْخُلْدِ نُوْرُ مُعِیْنِنَا
ھُدَاہُ نَمِیْرُالْمَاءِ لَا یَتَکَدَّرُ
وہ صاف پانی ہے‘ بہشت کا پانی ‘ ہمارے خدا کا نور ہدایت اُس کی صاف زلال ہے مکدّر نہیں
اَرٰی آ یَہٗ کَالْغِیْدِ جَاءَ تْ مِنَ السَّمَا
وَفِیْھَا شِفَاءٌ لِّلَّذِیْ یَتَدَبَّرُُ
اُس کی آیتیں حسین ہیں جو آسمان سے اُتریں اور ان آیتوں میں فکر کرنے والوں کے لئے شفا ہے
وَیُصْبِی قُلُوْبَ النَّاسِ بِالنُّوْرِ وَالْھُدٰی
وَیُرْوِی الْعَطَاشٰی بِالْمَعِیْنِ وَیَظْءَرُ
اور لوگوں کے دل اپنے نور کے ساتھ کھینچ رہا ہے اور پیاسوں کو صاف پانی سے سیراب کر رہا ہے اور دائیوں کی طرح دُودھ پلاتا ہے
وَ قَدْ کَانَ صُحْفٌ قَبْلَہُ مِثْلَ خَادِجٍ
فَجَاءَ لِتَکْمِیْلِ الْوَرٰی لِیُغَزَّرُ
اور اس سے پہلی کتابیں اُس اُونٹنی کی طرح تھیں جو قبل از وقت بچہ دیتی ہے پس قرآن لوگوں کے کامل کرنے کیلئے آیا تا ایک بار ہی تمام دُودھ دوہا جائے
بِلَیْلٍ کَمَوْجِ البَحْرِاَرْخٰی سُدُوْلَہُ
تَجَلّٰی وَاَدْرٰی کُلَّ مَنْ کَانَ یُبْصِرُ
ایسی رات میں آیا جو سمندرکی موج کی طرح اپنی چادر پھیلا رکھے تھی سو اُس نے آکر زمانہ کو روشن کر دیا اور ہر ایک جو دیکھ سکتا تھا اُس کو دِکھا دیا