فَصِرْتُ کَاَنِّیْ لِلرِّمَاحِ دَرِیَّۃٌ
وَ اُوْذِیْتُ حَتّٰی قِیْلَ عَبْدٌ مُّحَقَّرُ
پس میں ایسا ہو گیا گویاکہ میں تیروں کا نشانہ ہوں اور میں دُکھ دیا گیا یہاں تک کہ لوگوں نے کہا کہ یہ نہایت حقیر انسان ہے
وَمَا غَادَرُوْا کَیْدًا لِّدَوْسِیْ وَبَعْدَہٗ
عَلَیَّ حَضَوْا زَمْعَ الْاُنَاسِ وَثَوَّرُوْا
اور میرے کُچلنے کے لئے کسی مکر کو اُٹھا نہ رکھا اور بعد اس کے میرے پر کمینہ لوگوں کو مشتعل کیا اور برانگیختہ کیا
وَ لٰکِنْ مَاٰ لُ الْاَمْرِکَانَ ھَوَانُہُمْ
وَ اُُنْزِلَ لِیْ آيٌ تُنِیْرُ وَتَبْھَرُ
مگر انجام کار اُن کی رُسوائی ہوئی اور میرے لئے وہ نشان ظاہر کئے گئے جو روشن اور غالب تھے
فَاُوْصِیْکَ یَارِدْفَ الْحُسَیْنِ اَبَاالْوَفَا
اَنِبْ وَاتَّقِ اﷲَ الْمُحَاسِبَ وَاحْذَرُ
پس میں تجھے نصیحت کرتا ہوں اے محمد حسین کے پیچھے چلنے والے خدا کی طرف توبہ کر اور اُس مُحَاسِب سے ڈر
وَلَا تُلْھِکَ الدُّنْیَا عَنِ الدِّیْنِ وَالْھَوٰی
وَ اِنَّ عَذَابَ اﷲِ اَدْھٰی وَاَکْبَرُ
اور تجھے دنیا اور ہوا و ہوس دین سے نہ روکے اور خدا کا عذاب بہت سخت اور بڑا ہے
وَ لَا تَحْسَبِ الدُّنْیَا کَنَاطِفِ نَاطِفِیْ
اَ تَدْرِیْ بِلَیْلِ مْسَرَّۃٍ کَیْفَ تُصْبِحُ
اور دُنیا کو شیرینی کی طرح مت سمجھ جو شیرینی بنانے والا تیار کرتا ہے۔ کیا تُو خوشی کی رات کو جانتا ہے کہ کس طرح صبح کرے گا
اَلَا تَتَّقِی الرَّحْمٰنَ عِنْدَ تَصَنُّعٍ
وَمَنْ کَانَ اَتْقٰی لَا اَبَاَلَک یَحْذَرُ
کیا تُو خدا سے ڈرتا نہیں اور بناوٹ کرتا ہے اور جو شخص پرہیزگار ہو وہ ضرور ڈرتا ہے
اَ لَا لَیْتَ شِعْرِ یْ ھَلْ تُشَاھِدُ بَعْدَنَا
مَسِیْحًا یَحُطُّ مِنَ السَّمَآءِ وَ یُنْذِرُ
کاش تجھے سمجھ ہوتی ۔ کیا میرے بعد کوئی اور مسیح آسمان سے اُترے گا اور ڈرائے گا؟
وَلِلّٰہِ دَرُّ مذَکِّرٍ قَالَ اِنَّہُ
یَعَافُ الْھُدٰی شِکْسٌ زَنِیْمٌ مُّدَعْثَرُ
اور اُس ڈرانے والے نے کیا اچھا کہا ہے کہ ایک بدخُو ویران شدہ کمینہ ہدایت سے نفرت رکھتا ہے
ذَکَرْتَ بِمُدٍّ عِنْدَ بَحْثِکَ بِالْھَوٰی
اَحَادِیْثَ وَالْقُرْاٰ نَ تُلْغِیْ وَ تَہْجُرُ
تُو نے مقام مُدّ میں بحث کرنے کے وقت کہا تھا کہ ہمارے پاس یہ احادیث ہیں اور قرآن کو تو محض نکمّا اور باطل ٹھہرایاجاتا ہے