اَیَا اَیُّہَا الْمُغْوِیْ اَتُنْکِرُُُ شَأْنَہُ
وَمَافِیْ یَدَیْنَا غَیْرُہُ یَا مُزَوِّرُ
اے گمراہ کرنے والے ! کیا تُو قرآن کی شان سے انکار کرتا ہے اور بجز قرآن ہمارے ہاتھ میں کیا ہے؟ ( اے جھوٹ گھڑنے والے!)
لِقَوْمٍ ھَذٰی لَا بَارَکَ اﷲُ مُدَّھُمْ
جَھُوْلٌ فَاَدّٰی حَقَّ کِذْبٍ فَاَبْشَرُوْا
اس شخص نے ایک قوم کی خاطر کے لئے بکواس کی۔ خدا اُن کے مُدّ کو برکت نہ دے۔ یہ شخص جاہل ہے اس نے درو غ گوئی کا حق ادا کر دیا اِس لئے وہ لوگ خوش ہو گئے
لَہُ جَسَدٌ لَّا رُوْحَ فِیْہِ وَلَا صَفَا
کَقِدْرٍ یَّجُوْشُ و لَیْسَ فِیْہِ تَدَبُّرُ
یہ صرف ایک جسم ہے جس میں جان نہیں اور نہ صفا اور ایک ہنڈیا کی طرح جوش مارتا ہے کچھ تدبّر نہیں کرتا
نَبَذْتُمْ ھُدَی الْمَوْلٰی وَرَآءَ ظُھُوْرِکُمْ
فَدَعْنِیْ اُبَیِّنْ کُلَّمَا کَانَ یُسْتَرُ
تم نے خدا تعالیٰ کی ہدایتوں کو پسِ پُشت پھینک دیا۔ پس مجھے چھوڑ دے تا مَیں بیان کروں جو کچھ پوشیدہ کیا گیا ہے
وَ اِنِّیْ اَخَذْتُ الْعِلْمَ مِنْ مَّنْبَعِ الْھُدٰی
وَ اَجْرٰی عُیُوْنِیْ فَضْلُہُ الْمُتَکَثِّرُ
اور میں نے علم کو منبعِ ہدایت سے لیا ہے اور اُس کے فضل نے میرے چشمے جاری کر دیئے ہیں
وَ اُعْطِیْتُ مِنْ رَّبِّیْ عُلُوْمًا صَحِیْحَۃً
وَاَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ وَاُعْثَرُ
اور میں نے اپنے ربّ سے علومِ صحیحہ پائے ہیں۔ اور جو کچھ تم نہیں جانتے وہ مجھے سکھلایا جاتا اور اطلاع دیا جاتا ہے
وَکَأْسٍ سَقَانِیْ رُوْحُ رُوْحِیْ کَاَنَّہَا
رَحِیْقٌ کَنَجْمٍ نَاصِعِ اللَّوْنِ اَحْمَرُ
اور کئی پیالے میری جان کی جان نے مجھے ایسے پلائے ہیں کہ گویا ستارہ کی طرح ایک شراب ہے‘ خالص سُرخ رنگ
فَلَا تُبْشِرُوْا بِالنَّقْلِ یَا مَعْشَرَالْعِدَا
وَکَمْ مِّنْ نُّقُوْلٍ قَدْ فَرَاھَا مُسَحِّرُ
پس اے مخالفو ! محض نقلوں کے ساتھ خوش مت ہو جاؤ۔ اور بہتیری نقلیں اور حدیثیں ہیں جو دھوکا باز نے بنائی ہیں
ھَلِ النَّقْلُ شَیْءٌ بَعْدَ اِیْحَاءِ رَبِّنَا
فَاَیَّ حَدِیْثٍ بَعْدَہُ نَتَخَیَّرُ
اور خدا تعالیٰ کی وحی کے بعد نقل کی کیا حقیقت ہے۔پس ہم خدا تعالیٰ کی وحی کے بعد کس حدیث کو مان لیں
وَ قَدْ مُزِّقَ الْاَخْبَارُُ کُلَّ مُمَزَّقٍ
فَکُلٌّ بِمَا ھُوْ عِنْدَہُ یَسَتَبْشِرُ
اور حدیثیں تو ٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں ۔ اور ہر ایک گروہ اپنی حدیثوں سے خوش ہو رہا ہے
اَعِنْدَکَ بُرْھَانٌ قَوِیٌّ مُّنَقَّحٌ
عََلٰی فَضْلِ شَیْخٍ عَابَ اَوْ اَنْتَ تَہْذِرُ
کیا تیرے پاس مولوی محمد حسین کی فضیلت کی کوئی دلیل ہے۔ جو میرے کلام کا عیب نکالتا ہے؟ یا توُ یوں ہی بکواس کر رہا ہے