اِلَیْکَ اَرُدُّ محَامِدِیْ رُدْتُّ کُلَّھَا
وَ مَا اَنَا اِلاَّ مِثْلُ ذَرْقٍ یُّعَفَّرُ
میں تیری طرف ان تمام تعریفوں کو ردّ کرتا ہوں جن کا میں قصد کرتا ہوں۔ اور میں نہیں ہوں مگر ایک سرگین کی طرح جو خاک میں ملایا جاتا ہے
وَ قَالُوْا عَلَی الْحَسْنَیْنِ فَضَّلَ نَفْسَہُ
اَقُوْلُ نَعَمْ وَاﷲُ رَبِّیْ سَیُظْھِرَُ
اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے امام حسن اور حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا ۔ میں کہتا ہوں کہ ہاں اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا
وَلَوْ کُنْتُ کَذَّابًا لَمَا کُنْتُ بَعْدَہُ
کَمِثْلِ یَہُوْدِیٍّ وَّ مَنْ یَّتَنَصَّرُ
اور اگر میں جھوٹا ہوتا تو پھر اس کے بعد۔ میں ایک یہودی اور مُرتد نصرانی کی مانند بھی نہ ہوتا
وَلٰکِنَّنِیْ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ خَلِیْفَۃٌ
مَسِیْحٌ سَمِعْتُمْ وَعْدَہُ فَتَفَکَّرُوْا
مگر میں اپنے خدا کے حکم سے خلیفہ۔ اور مسیح موعود ہوں۔ اب تم سوچ لو
فَمَا شَأْنُ مَوْعُوْدٍ وَّمَا فِیْہِ عِنْدَکُمْ
مِنَ الْقَوْلِ قَوْلِ نْبِیِّنَا فَتَدَبَّرُوْا
پس مسیح موعود کی کیا شان ہے اور تمہارے پاس اس کے باب میں۔ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا کیا قول ہے؟
حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ عِنْدَکُمْ تَقْرَءُ وْ نَہُ
فَلَا تَکْتُمُوْا مَا تَعْلَمُوْنَ وَاَظْھِرُوْا
تمہارے پاس ایک صحیح حدیث ہے جس کو تم پڑھتے ہو۔ پس جو کچھ تم جانتے ہو اس کو پوشیدہ مت کرو اور ظاہر کرو
وَمَنْ یَّکْتُمَنَّ شْھَادَۃً کَانَ عِنْدَہُ
فَسَوْفَ یَرٰ ی تَعْذِیْبَ نَارٍ تُسَعَّرُ
اور جو شخص اس گواہی کو پوشیدہ کرے گا جو اس کے پاس ہے۔ پس عنقریب وہ آگ کا عذاب دیکھے گا جو خوب بھڑکائی جائے گی
فَلَا تَجْعَلُوْا کِذْبًا عَلَیْکُمْ عُقُوْبَۃً
وَ دَعْ یَاثَنَاءَ اﷲِ قَوْلًا تُزَوِّرُ
پس تم جھوٹ کو اپنے لئے وبال کا ذریعہ مت ٹھہراؤ ۔ اور اے ثناء اﷲ ! تو جھوٹ بولنا چھوڑ دے
تَرَکْتَ طَرِیْقَ کْرَامِ قَوْمٍ وَّ خُلْقَھُمْ
ہَجَوْتَ بِمُدٍّ عَامِدًا لِّتُحَقِّرُ
تو نے شریفوں کے خُلق اور طریق کو چھوڑ دیا۔ اور تُو نے موضع مُدّ میں قصدًا ہماری ہجو کی تا تُو تحقیر کرے
وَ شَتَّانَ مَابَیْنَ الْکِرَاِم وَبَیْنَکُمْ
وَ اِنَّ الْفَتٰی یَخْشَی الْحَسِیْبَ وَیَحْذَرُ
اور کہاں شریف اور کہاں تم لوگ ۔ اور نیک انسان خدا سے ڈرتا ہے اور بدی سے پرہیز کرتا ہے
تَرَکْنَاکَ حَتّٰی قِیْلَ لَا یَعْرِفُُ الْقِلٰی
فَجِءْتَ خَصِیْمًا اَ یُّہَا الْمُسْتَکْبِرُ
ہم نے تو تجھے چھوڑ دیا تھا یہاں تک کہ تم لوگ کہتے تھے کہ اب کیوں کچھ لکھتے نہیں؟۔ پس تُو خود مقابلہ کے لئے آیا ہے اَے متکبر!