اَقَلْبُ حُسََیْنٍ یَّہْتَدِیْ مَنْ یَّظُنُّہُ عَجِیْبٌ وَّ عِنْدَ اﷲِ ھَیْنٌ وَّ اَیْسَرُ کیا محمد حسین کا دل ہدایت پر آ جائے گا یہ کون گمان کر سکتا ہے؟۔ عجیب بات ہے اور خدا کے نزدیک سہل اور آسان ہے ثَلٰثَۃُ اَشْخَاصٍ بِہٖ قَدْ رَاَیْتُھُمْ وَ مِنْہُمْ اِلٰھِیْ بَخْشُ فَاسْمَعْ وَ ذَکِّرُ تین آدمی اس کے ساتھ اور ہیں۔ ایک اُن میں سے الٰہی بخش اکونٹنٹ ملتانی ہے پس سُن اور سُنا دے لَعَمْرُکَ ذُقْنَا دُوْنَ ذَنْبٍ رِمَاحَھُمْ فَمَا سَرَّنَا اِلاَّ دُعَاءٌ یُّکَرَّرُ تیری قسم! کہ ہم نے بغیر گناہ کے ان کے نیزوں کا مزہ چکّھا پس ہمیں یہی اچھا معلوم ہوا کہ اُن کے حق میں دعا کرتے ہیں مَتٰی ذُکِّرُوْا یَغْتَمُّ قَلْبِیْ بِذِکْرِھِمْ بِمَا کَانَ وَقْتٌ بِالْمُلَا قَاۃِ نُبْشِرُ جب وہ ذکر کئے جاتے ہیں تو میرا دل غمناک ہو جاتا ہے کیونکہ یاد آتا ہے کہ ایک دن ہم ملاقات سے خوش ہوتے تھے أَ اُرْضِعْتَ مِنْ غُوْلِ الْفَلَا یَا اَبَا الْوَفَا فَمَالَکَ لَا تَخْشٰی وَلَا تَتَفَکَّرُ کیا تجھے جھوٹ کادودھ پلایا گیا؟ اے ثناء اﷲ! پس تجھے کیا ہو گیا کہ نہ ڈرتا ہے نہ فکر کرتا ہے تَرَکْتُمْ سَبِیْلَ الْحَقِّ وَالْخَوْفِ وَالْحَیَا وَجُزْتُمْ حُدُوْدَ الْعَدْلِ وَاﷲُ یَنْظُرُ تم نے حق کو چھوڑ دیا * اور عدل سے باہر ہو گئے اور اﷲ دیکھتا ہے وَکَیْفَ تَرٰی نَفْسٌ حَقِیْقَۃَ وَحْیِنَا یُصِرََُّ علٰی کِذْبٍ وَّ بِالسُّوْءِ یَجْھَرُ ایسا آدمی ہماری وحی کی حقیقت کیا جانتا ہے جو جھو ٹ پر اصرار کرتا ہے اور کھلی بدگوئی کرتا ہے وَ اِنْ کُنْتُ کَذَّابًا کَمَا ھُوَ زَعْمُکُمْ فَکِیْدُوْا جَمِیْعًا لِّیْ وَلَا تَسْتَاْخِرُوْا اور اگر میں تمہارے نزدیک جھوٹا ہوں۔ تو میری بربادی کیلئے تم سب کوشش کرو اور پیچھے مت ہٹو وَ اِنَّ ضِیَاءِیْ یَبْلُغُ الْاَرْضَ کُلََّھَا اَ تُنْکِرُھَا فَاسْمَعْ وَ اِنِّیْ مُذَکِّرُ اور میری روشنی دُنیا میں پھیل جائے گی۔ کیا تُو انکار کرتا ہے ؟ پس سن رکھ اور میں یاد دلاتا ہوں عَقَرْتَ بِمُدٍّ صُحْبَتِیْ یَا اَبَاالْوَفَا بِسَبٍّ وَّ تَوْھِیْنٍ فَرَبِّیْ سَیَقْھَرُ اے ثناء اﷲ ! تو نے مُدّ میں ہمارے دوستوں کو رنج پہنچایا۔ گالی سے اور توہین سے پس میرا خدا عنقریب غالب ہو جائے گا جَلَا لَکَ رَبِّیْ اَبْتَغِیْ لَا جَلَا لَتِیْ وَ اَنْتَ تَرَی قَلْبِیْ وَ عَزْمِیَْ و تُبْصِرُ اے میرے خداوند! میں تیرا جلال چاہتا ہوں نہ اپنی بزرگی اور تو میرے دل کو اور میرے قصد کو دیکھ رہا ہے * نشان شدہ مصرعہ میں سہو کتابت سے ترجمہ کا کچھ حصہ لکھنے سے رہ گیا ہے۔ پورا ترجمہ یوں ہو گا ’’تم نے حق اور خوف اور حیا کے راستے کو چھوڑ دیا‘‘ (ناشر)