بَلَاءٌ عَلَیْکُمْ وَالْعِلَاجُ اِنَابَۃٌ
وَبِالْحَقِّ اَنْذَرْنَا وَبِالْحَقِّ نُنْذِرُ
تم پر ایک بلا ہے اور اس کا علاج توبہ کرنا اور ہر ایک گناہ سے پرہیز کرنا ہے۔ ہم نے سچے طور پر متنبّہ کر دیا اور کر رہے ہیں
دَعُوْا حُبَّ دُنْیَاکُمْ وَحُبَّ تَعَصُّبٍ
وَمَنْ یَّشْرَبِ الصَّھْبَاءَ یُصْبِحْ مُسَکَّرُ
دنیا کی محبت اور تعصّب کی محبت چھوڑ دو۔ اور جو شخص رات کو شراب پیئے گا وہ صبح خمار کی تکلیف اُٹھائے گا
وَکَمْ مِّنْ ھُُمُوْمٍ قَدْ رَأَیْنَا لِاَجْلِکُمْ
وَ نَضْرَمُ فِیْ الْقَلْبِ اضْطِرَامًا وَّ نَضْجَرُ
اور بہت غم ہم نے تمہارے لئے اُٹھائے۔اور اب بھی ہمارے دل میں تمہارے لئے آگ ہے جس کو ہم پوشیدہ رکھتے ہیں
اَصِیْحُ وَقَدْ فَاضَتْ دُُمُوْعِیْ تَأَلُّمًا
وَ قَلْبِیْ لَکُمْ فِیْ کُلِّ اٰنٍ یُوَغَّرُ
میں آواز مارتا ہوں اور میرے آنسو درد سے جاری ہیں۔ اور میرا دل ہرایک دم تمہارے لئے گرم کیا جاتا ہے
فَسَلْ اَیُّہَا الْقَارِیْ اَخَاکَ اَبَا الْوَفَا
لِمَا یَخْْْْدَعُ الْحَمْقٰی وَقَدْ جَاءَ مُنْذِرُ
پس اے قاری! تُو اپنے بھائی ثناء اﷲ سے پوچھ ۔ کیوں احمقوں کو فریب دے رہا ہے اور ڈرانے والا آگیا
اَلَا رُبَّ خَصْمٍ قَدْ رَأَیْتُ جِدَالَہُ
َ
وَمَا إِنْ رَأَیْنَا مِثْلَہُ مَنْ یُّزَوِّرُ
خبردار ہو! میں نے بہت بحث کرنے والے دیکھے ہیں۔ مگر اُس جیسا فریبی میں نے کوئی نہیں دیکھا
عَجِبْتُ لِمَبْحَثْہِ اِلٰی ثُلْثِ سَاعَۃٍ
اَکَانَ مَحَلُّ الْبَحْثِ اَوْکَانَ مَیْسِرُ
مجھے تعجب آیا کہ اُس نے بحث کا زمانہ بیس منٹ مقرر کیا۔ کیا یہ بحث تھی یا کوئی قمار بازی تھی؟
اَمُکْفِرِ مَھْلًا کُلَّمَا کُنْتَ تَذْکُرُ
وَ اَمْلِ کَمِثْلِیْ ثُمَّ اَنْتَ مُظَفَّرُ
اے میرے کافر کہنے والے! گذشتہ سب باتیں چھوڑ دے۔ اور میری مانند قصیدہ لکھ‘ پھر تُو فتحیاب ہے
رَضِیْتُ بِاَنْ تَخْتَارَ فِی النَّمْقِ رُفْقَۃً
وَِ انَّا عَلٰی اِمْلَاءِ ھِمْ لَا نُعَیِّرُ
میں نے یہ بھی قبول کیا کہ اگر تُو مقابلہ سے گرے تو اپنے رفیق بنا لے۔ اور ہم اُن کے لکھنے میں کوئی سرزنش تجھے نہیں کریں گے
فَمَا الْخَوْفُ فِیْ ھٰذَا الْوَغَا یَا اَبَاالْوَفَا
لِیُمْلِ حُسَیْنٌ اَوْ ظَفَرْ اَوْ اَصْغَرُ
پس اے ثناء اﷲ ! اس لڑائی میں تجھے کیا خوف ہے۔ چاہیئے کہ محمد حسین اس کا جواب لکھے یا قاضی ظفر الدین یا اصغر علی
وَ اِنِّیْ اَرٰی فِیْ رَأْسِھِمْ دُوْدَ نَخْوَۃٍ
فَاِنْ شَاءَ رَبِّیْ یُخْرِجَنَّ وَ یَجْذُرُ
اور میں ان کے سر میں تکبّر کے کیڑے دیکھتا ہوں۔ اور اگر خدا چاہے تو وہ کیڑے نکال دے گا اور جڑ سے اکھاڑ دے گا