وَ اِنْ کَانَ شَأْنُ الْاَمْرِاَرْفَعَ عِنْدَکُمْ فَاَیْنَ بِہٰذَا الْوَقْتِ مَنْ شَانَ جَوْلَرُ پس اگر یہ کام ان لوگوں کے ہاتھ سے تیرے نزدیک بڑھ کر ہے۔ پس اس وقت مہر علی شاہ کہاں ہے جس نے گولڑہ کو بدنام کیا اَمَیْتٌ بِقَبْرِ الْغَیِّ لَایَنْبَرِیْ لَنَا وَ مَنْ کَانَ لَیْثًا لَا مَحَالَۃَ یَزْءَ رُ کیا وہ مُردہ ہے جو اب باہر نہیں نکلے گا۔ اور شیر تو ضرور نعرہ مارتا ہے وَ اِنْ کَانَ لَایَسْطِیْعُ اِبْطَالَ اٰ یَتِیْ فَقُلْ خُذْ مَزَامِیْرَ الضَّلَالَۃِ وَازْمُرُ اور اگر وہ میرے اس نشان کو باطل نہیں کر سکتا۔ پس کہہ کہ طنبور وغیرہ بجایا کر تجھے علم سے کیا کام اَغَلَّطَ اِعْجَازِیْ حُسَیْنٌ بِعِلْمِہِ وَھَیْءَاتَ مَاحَوْلُ الْجَھُوْلِ أَتَسْخَرُ کیا میری کتاب اعجاز المسیح کی محمد حسین نے غلطیاں نکالیں۔ اور یہ کہاں ہو سکتا ہے اور محمد حسین کی کیا طاقت ہے؟ کیا ہنسی کر رہا ہے؟ وَ اِنْ کَانَ فِیْ شَیْءٍ بِعِلْمٍ حُسَیْنُکُمْ فَمَالَکَ لَا تَدْعُوْہُ وَالْخَصْمُ یَحْصُُرُ اوراگر تمہارا محمد حسین کچھ چیز ہے۔ پس تو اُس کو کیوں نہیں ُ بلاتا اور دشمن سخت گرفت کر رہا ہے وَ نَحْسَبُہ‘ کَالْحُوْتِ فَأْتِ بِنَظْمِہٖ مَتٰی حَلَّ بَحْرًا نَقْتَنِصْہُ وَ نَأْسِرُ اور ہم تو اس کو ایک مچھلی کی طرح سمجھتے ہیں۔ پس اس کی نظم پیش کر۔ جب وہ شعر کے بحروں میں سے کسی بحر میں داخل ہو گا تو ہم اس کو شکار کر لیں گے اور پکڑ لیں گے وَ اِنْ یَّاْتِنِيْ اَصْبَحْہُ کَأْسًا مِنَ الْھُدٰی فَاَحْضِرْہُ لِلْاِمْلَاءِ اِنْ کَانَ یَقْدِرُ اگر وہ میرے پاس آئے گا تو اُسی صبح ہدایت کا پیالہ پلاؤں گا۔ پس اُس کو لکھنے کیلئے حاضر کر اگر وہ لکھنے کیلئے طاقت رکھتا ہے اِذَا مَا ابْتَلَاہُ اﷲُ بِالْاَرْضِ سُخْطَۃً بِلَا ءِلَ قَالُوْا مُکْرَمٌ وَّ مُعَزَّرُ جب خدا نے بیزاری کے طور پر اُس کو زمین لائلپور میں دی۔ تو مخالفوں نے کہا کہ اُ س کی بڑی عزّت ہے وَمَا الْعِزُّ اِلاَّ بِالتَّوَرُّعِ وَالتُّقٰی وَ بُعْدٍ مِّنَ الدُّنْیَا وَ قَلْبٍ مُّطَھَّرُ اور عزّت تو پرہیزگارو*ں کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور دنیا سے علیحدہ ہونے اور دل پاک کرنے میں وَ اِنَّ حَیَاۃَ الْغَافِلِیْنَ لَذِلَّۃٌ فَسَلْ قَلْبُہُ زَادَ الصَّفَا اَوْ تَکَدَّرُ اور غفلت کی زندگی ایک ذلت ہے۔ پس اُس سے پوچھ کہ کیا پہلے کی نسبت اُس کا دل صاف ہے یا دُنیا کی کدورت میں مشغول ہے * ترجمہ میں سہوکاتب سے الفاظ کی کمی بیشی معلوم ہوتی ہے۔ لفظی ترجمہ یوں ہے اور عزت تو پرہیز گاری کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور دنیا سے علیحدہ ہونے اور دل پاک کرنے میں۔ (شمسؔ )