فَقَدْ سَرَّنِیْ فِیْ ھٰذِہِ الصُّوْرِ صُوْرَۃٌ
لِیَدْفَعَ رَبِّیْ کُلَّمَا کَانَ یَحْشُرَُ*
پس ان صورتوں میں مجھے ایک طریق اچھا معلوم ہوا۔ تا میرا خدا اس طوفان کو دور کر دے جو اُس نے اٹھایا ہے
فَاَلَّفْتُ ھٰذَا النَّظْمَ اَعْنِیْ قَصِیْدَتِیْ
لِیُخْزِیَ رَبِّی کُلَّ مَنْ کَانَ یَہْذِرُ
پس میں نے یہ نظم یعنی یہ قصیدہ اپنا تالیف کیا۔ تا میرا خدا اُن لوگوں کو رُسوا کرے جو بکواس کرتے ہیں
وَھٰذَا عَلٰی اِصْرَارِہِ فِیْ سُؤَالِہِ
فَکَیْفَ بِہٰذَا السُّءْلِ اُغْضِیْ وَاَنْہَرُ
اور یہ قصیدہ اس کے اصرارِ مقابلہ پر بنایا گیا ہے۔ پس مَیں باوجود اس قدر سوال کے کیونکر چشم پوشی کروں اور کیونکرسائل کو جھڑک دوں
وَلَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْجَوَابِ جَرِیْمَۃٌ
فَنَہْدِیْ لَہُ کَالْاَکْلِ مَا کَاَن یَبْذُرُ
اور اس جواب میں ہم پر کوئی گناہ نہیں۔ اور ہم اُس کو ہدیہ کے طور پر اس چیز کا پھل دیتے ہیں جو اُس نے بویا تھا
فَاِنْ اَ کُ کَذَّابًا فَیَأْتِیْ بِمِثْلِھَا
وَ اِنْ اَ کُ مِنْ رَّبِّیْ فَیُغْشٰی وَیُثْبَرُ
پس اگر میں جھوٹا ہوں تو ایسا قصیدہ بنا لائے گا اور اگر میں خدا کی طرف سے ہوں پس اس کی سمجھ پر پردہ ڈال دیا جائے گا اور روکا جائے گا
وَھٰذَا قَضَاءُ اﷲِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَہُمْ
لِیُظْھِرَ ٰا ٰیتِہْ وَمَا کَانَ یُخْبِرُ
اور یہ خدا کا فیصلہ ہے ہم میں اور اُن میں تا اپنے نشانوں کو ظاہر کرے اور اس نشان کو ظاہر کرے جو پہلے سے خبر دے رکھی تھی
قَطَعْنَا بِہٰذَا دَابِرَالْقَوْمِ کُلِّھِمْ
وَ غَادَرَھُمْ رَبِّیْ کَغُصْنٍ تُجَذَّرُ
ہم نے اس نشان سے سب کا فیصلہ کر دیا ہے اور میرے ربّ نے اُن کو اُن شاخوں کی طرح کر دیا جو کاٹ دی جاتی ہیں
اَرٰ ی اَرْضَ مُدٍّ قَدْ اُرِیْدَ تَبَارُھَا
وَغَادَرَھُمْ رَبِّیْ کَغُصْنٍ تُجَذَّرُ
میں مُدّ کی زمین دیکھتا ہوں کہ اُس کی تباہی نزدیک آ گئی ۔ اور میرے ربّ نے اُن کو کٹی ٹہنی کی طرح کر دیا
اَ یَامُحْسِنِیْ بِالْحُمْقِ وَالْجَھْلِ وَالرُّغَا
رُوَیْدَکَ لَا تُبْطِلْ صَنِیْعَکَ وَاحْذَرُ
اے میرے محسن! اپنے حمق اور جہالت اور اونٹ کی طرح بولنے سے باز آ جا اور اپنے احسان کو باطل نہ کر
اَتَشْتِمُ بَعْدَ العَوْنِ وَالْمَنِّ وَالنَّدٰی
اَتَنْسٰی نَدَی مُدٍّ وَّ مَاکُنْتَ تَنْصُرُ
کیا تُو مدد اور احسان اور بخشش کے بعد گالیاں دے گا۔ کیا تُو اُس بخشش کو بھُلا دے گا جو مُدّ کے مقام میں تُو نے کی اور بخشش کی
تَرَی کَیْفَ اَغْبَرْتِ السَّمَاءُ بِآیِہَا
اِذَا الْقَوْمُ آذَوْنِیْ وَ عَابُوْا وَ غَبَّرُوْا
تُو دیکھتا ہے کہ کس طرح آسمان نشانوں کی پُر زور بارش کرنے لگا۔ جب قوم نے مجھے دُکھ دیا اور عیب نکالے اور گرد اُٹھائی
* ھٰذَا الشِّعْرُ مِنْ وَحْیِ اﷲِ تعالٰی جَلَّ شَانُہٗ ۔