وَمَامَسَّہُ نُوْرٌ مِّنَ الْعِلْمِ وَالْھُدٰی فَیَا عَجَبًا مِّنْ بَقَّۃٍ یَّسْتَنْسِرُ حالانکہ ثناء اﷲ کو علم اور ہدایت سے ذرّہ مس نہیں۔ پس تعجب ہے اس مچھر پر کہ کر گس بننا چاہتا ہے فَلَمَّا اعْتَدٰی وَاحَسَّ صَحْبِیْ اَنَّہُ یُصِرُّ عَلٰی تَکْذِیْبِہِ لَا یُقَصِّرُ پس جب وہ حد سے بڑھ گیا اور میرے دوستوں نے معلوم کیا۔ کہ وہ تکذیب پر اصرار کر رہا ہے اور باز نہیں آتا دَعَوْہُ لِیَبْتَھْلَنْ لِمَوْتِ مُزَوِّرٍ* مُضِلٍّ فَلَمْ یَسْکُتْ وَلَمْ یَتَحَسَّرُ اُس کو بُلایا کہ جھوٹے کی موت کے لئے خدا کی جناب میں تضرّع کرے۔ وہ جھوٹا جو گمراہ کرتا ہے‘ پس ثناء اﷲ اپنے شور سے چپ نہ ہوا اور نہ تھکا وَ کَذَّبَ اِعْجَازَ الْمَسِیْحِ وَ ٰا یَہُ وَ غَلَّطَہُ کِذْبًا وَّ کَانَ یُزَوِّرُ اور کتاب اعجاز المسیح جو میری کتاب ہے اس کی اُس نے تکذیب کی اور اس کے نشانِ فصاحت کی تکذیب کی اور جھوٹ کی راہ سے اُس کو غلط ٹھہرایا اور جھوٹ بولا وَقِیْلَ لِاِمْلَاءِ الْکِتَابِ کَمِثْلِہِ فَقَالََ کَاَھْلِ الْعُجْبِ اِنَّیْ سَاَسْطُرُ پس اس کو کہا گیا کہ اعجاز المسیح کی طرح کوئی کتاب لکھ ۔ پس اس نے خود نمائی سے کہا کہ میں لکھوں گا وَ اَنْکَرَ ٰایَاتِیْ وَاَنْکَرَ دَعْوَتِیْ وَاَنْکَرَ اِلْھَامِیْ وَقَالَ مُزَوِّرُ اور میرے نشانوں سے انکار کیا اور میری دعوت سے انکار کیا۔ اور میرے الہام سے انکار کیا اور کہا کہ ایک جھوٹا آدمی ہے وَ کَذَّبَنِیْ بِالْبُخْلِ مِنْ کُلِّ صُوْرَۃٍ وَ خَطَّأَنِیْ فِیْ کُلِّ وَعْظٍ اُذَکِّرُ اور اُس نے ہر ایک صورت سے مجھے کاذب ٹھہرایا ۔ اور ہر ایک وعظ میں‘ جو میں نے کیا‘ مجھے خطا کی طرف منسوب کیا فَاُفْرِدْتُّ اِفْرَادَ الْحُسَیْنِ بِکَرْبَلَا وَ فِی الْحَیِّ صِرْنَا مِثْلَ مَنْ کَانَ یُقْبَرُ پس اُس جگہ میں اکیلا رہ گیا جیسا کہ حسین ارضِ کربلا میں اور اس قوم میں ہم ایسے ہو گئے جیسا کہ مردہ دفن کیا جاتا ہے تَصَدَّی لِاِنْکَارِیْ وَ اِنْکَارِٰایَتِیْ وَ کَانَ لِحِقْدٍ کَالْعَقَارِبِ یَأْبُرُ میرے انکار اور میرے نشانوں کے انکار کیلئے پیش آیا۔ اور وہ کینہ سے کژدم کی طرح نیش زنی کرتا تھا * ایسا اس وقت کہا جب ثناء اللہ کو تکذیب میں انتہا تک دیکھا اور ایسی لاف زنی کرتے اس کو مشاہدہ بھی کر لیا۔ منہ