رَءَ وْا بُرْجَ بُہْتَانٍ تُشَادُ وَ تُعْمَرُ
فَقَالُوْا لَحَاکَ اﷲُ کَیْفَُ تزَوِّرُ
انہوں نے بہتان کا قلعہ دیکھا جو بنایا جاتا تھا۔ پس انہوں نے کہا خدا کی ملامت تجھ پر‘ تُو کیسا جھوٹ بول رہا ہے
اَقَلُّ زَمَانِ الْبَحْثِ مِقْدَارُ سَاعَۃٍ
فَلَمْ یَقْبَلِ الْحَمْقٰی وَصَحْبِیْ تَنَفَّرُوْا
کم سے کم بحث کا زمانہ ایک ساعت چاہیئے۔ پس احمقوں نے قبول نہ کیا اور میرے دوست اس مقدار سے متنفّر ہوئے
رَضُوْا بَعْدَ تَکْرَارٍ وَّ بَحْثٍ بِثُلْثِھَا
وَفِی الصَّدْرِ حُزَّازٌ وَفِی الْقَلْبِ خَنْجَرُ
آخر اس بات پر کسی قدر تکرار اور بحث کے بعد راضی ہو گئے کہ بیس بیس منٹ تک بحث ہو اور سینہ میں سوزشِ غضب تھی اور دل میں خنجر تھا
دَفَاھُمْ عَمَایَاتُ الْاُنَاسِ وَ حُمْقُھُمْ
رَأَوْا مُدَّ قَوْمٌ وَّالْمُدٰی قَدْ شَھَّرُُوْا
قوم کی جہالتوں نے اُن کو خستہ کر دیا۔ موضع مُدّ کو انہوں نے ایسی صورت میں دیکھا جو چُھریاں نکالی ہوئی ہیں
فَصَارُوْا بِمُدٍّ لِلرِّمَاحِ دَرِیَّۃً
وَیَعْلَمُھَا اَحْمَدْ عَلِیُّ الْمُدَبِّرُ
پس میرے دوست مُدّ میں نیزوں کے نشانے بن گئے اور اس بات کو احمد علی‘ جو میرِ مجلس تھا‘ خوب جانتا ہے
وَکَانَ ثَنَاءُ اﷲِ فِیْ کُلِّ سَاعَۃٍ
یُأَجِّجُ نِیْرَانَ الْفَسَادِ وَ یُسْعِرُ
اور ثناء اﷲ ہر ایک گھڑی۔ فساد کی آگ بھڑکا رہا تھا
أَرٰ ی مَنْطِقًا مَایَنْبَحُ الْکَلْبُ مِثْلَہُ
وَفِیْ قَلْبِہِ کَانَ الْھَوٰی یَتََََََزَخَّرُ
ایسی باتیں کیں کہ ایک کتّا اس طرح آواز نہیں نکالے گا۔ اور اُس کے دل میں ہواؤ ہوس جوش مار رہی تھی
وَ اِنَّ لِسَانَ الْمَرْءِ مَالَمْ یَکُنْ لَّہُ
اُصَاۃٌ عَلٰی عَوْرَاتِہِ ھُوَ مشعرُ
اور انسان کی زبان جب تک اس کے ساتھ عقل نہ ہو‘ اُس کے پوشیدہ عیبوں پر ایک دلیل ہے
یُکَلِّمُ حَتَّی یَعْلَمَ النَّاسُ کُلُّھُمْ
جَھُوْلٌ فَلَا یَدْرِیْ وَ لَا یَتَبَصَّرُ
ایساانسان کلام کرتا ہے یہاں تک کہ سب لوگ جان لیتے ہیں۔ کہ یہ جاہل آدمی ہے نہ عقل ہے نہ بصیرت
وَلَوْلَا ثَنَاءُ اﷲِ مَازَالَ جَاھِلٌ
یَشُکُّ وَلَا یَدْرِیْ مَقَامِیْ وَیَحْصُرُ
اوراگرثناء اﷲ نہ ہوتا تو ایک جاہل میرے بارے میں شک کرتا اور مجھے سوالوں سے تنگ کرتا
فَھٰذَا عَلَیْنَا مِنَّۃٌ مِّنْ اَبِی الْوََفَا
اَرٰی کُلَّ مَحْجُوْبٍ ضِیَاءِیْ فَنَشْکُرُ
پس یہ مولوی ثناء اﷲ کا ہم پر احسان ہے کہ ہر ایک غافل کو ہماری روشنی سے اطلاع دی۔ سو ہم اُس کا شکر کرتے ہیں