تَحَرَّوْا لِھٰذَا الْبَحْثِ اَرْضًا شَجِیْرَۃً اِلَی الْجَانِبِ الْغَرْبِیِّ وَالْجُنْدُ جُمِّرُوْا اور بحث کیلئے ایک زمین اختیار کی گئی جس میں کئی ایک* درخت تھے۔ اور وہ جگہ گاؤں سے باہر غربی طرف تھی اور ہمارے دوست وہاں ٹھہرائے گئے فَکَانَ ثَنَاءُ اﷲِ مَقْبُوْلَ قَوْمِہِ وَمِنَّا تَصَدّٰی لِلتَّخَاصُمِ سَرْوَرُ اور ثناء اﷲ اس کی قوم کی طرف سے مقبول تھا۔ اور ہماری طرف سے مولوی سیّد محمد سرور شاہ پیش ہوئے کَاَنَّ مَقَامَ الْبَحْثِ کَانَ کَاَجْمَۃٍ بِہِ الذِّءْبُ یَعْوِی وَالغَضَنْفَرُ یَزْءَ رُ گویا مقامِ بحث ایک ایسے بَن کی طرح تھا۔ جس میں ایک طرف بھیڑیا چیختا تھا اور ایک طرف شیرغرّاتا تھا وَقَامَ ثَنَاءُ اﷲِ یُغْوِیْ جُنُْوْدَہُ وَیُغْرِیْ عَلٰی صَحْبِیْ لِءَامًا وَّ یَہْذُرُ اور کھڑا ہوا ثناء اﷲ اپنی جماعت کو اغوا کر رہا تھا۔ اور میرے دوستوں پر برانگیختہ کرتا تھا وَکَانَ طَوَی کَشْحًا عَلٰی مُسْتَکِنَّۃٍ وَ مَا رَادَ نَہْجَ الْحَقِّ بَلْ کَانَ یَہْجُرُ اور اُس نے کینہ کو اپنے دل میں ٹھان لیا۔ اور حق جوئی نہ کی بلکہ بکواس کرتا رہا سَعٰی سَعْیَ فَتَّانٍ لِتَکْذِیْبِ دَعْوَتِیْ وَکَانَ یُدَسِّی مَا تَجَلَّی وَ یَمْکُرُ اس نے فتنہ انگیز آدمی کی طرح میری دعوت کی تکذیب کی کوشش کی۔ اور وہ حق پوشی کر رہا تھا اور مکر کر رہا تھا وَاَظْھَرَ مَکْرًا سَوَّلَتْ نَفْسُہُ لَہُ وَلَمْ یَرْضَ طُوْلَ الْبَحْثِ فَالْقَوْمُ سُحِّرُوْا اور ایک مکر اُس نے ظاہر کیا جو اُس کے دل میں پیدا ہوا۔ اور لمبی بحث سے انکار کیا اور قوم اُس کے فریب میں آ گئی فَشَقَّ عَلٰی صَحْبِیْ طَرِیْقٌ اَرَادَہُ وَقَدْظُنَّ اَنَّ الْحَقَّ یُخْفٰی وَیُسْتَرُ پس میرے دوستوں پر وہ طریق گراں گذرا جس کا اُس نے ارادہ کیا۔ اور انہوں نے گمان کیا کہ اِس سے حق پوشیدہ رہ جائے گا * اس میں سہو کتابت ہے اصل عبارت یوں ہو گی۔ ’’جس میں کئی ایک درخت تھے۔‘‘ کاتب سے جب سہواً ’’کئی‘‘ کا لفظ چھوٹ گیا تو تصحیح عبارت کے لئے ’’تھے ‘‘کو’’ تھا ‘‘بنا دیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں یہ شکایت کی گئی کہ بعض جگہ سہوِ کاتب سے غلطیاں رہ گئی ہیں۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ’’ یہ کوئی غلطی نہیں ہوا کرتی۔ کیونکہ ساتھ ہی ترجمہ ہے اگر کوئی لفظ عربی ہے اور نقطہ وغیرہ کی غلطی ہے تو نیچے ترجمہ اس کی صحت کرتا ہے ۔ اور اگرترجمہ میں کوئی غلطی صحت سے رہ گئی ہے تو پھر اصل عبارت عربی موجود ہے۔ اس سے صحت ہو جاتی ہے۔‘‘ (البدر ۱۶؍ نومبر ۱۹۰۲ء)