ابؔ مَیں اپنے خدائے قدیر و کریم و قدّوس و غیور پر توکل کر کے قصیدہ کو لکھتا ہوں اور اپنے مؤید اور محسن سے مدد چاہتا ہوں اے میرے پیارے قادر اور دِلوں کے اسرار کے گواہ میری مدد کر اور ایسا کر کہ یہ تیرا نشان دنیا میں چمکے اور کوئی مخالف میعاد مقرر ہ میں اس کی نظیربنانے میں قادر نہ ہو اے میرے پیارے ایسا ہی کر اور بہتوں کو اِس نشان اور اس تمام مضمون سے ہدایت دے۔ آمین ثم آمین
اور وہ قصیدہ یہ ہے۔
اَلْقَصِیْدَۃُ الْاِعْجَازِیَّۃُ
اَ یَا اَرْضَ مُدٍّ* قَدْ دَفَائکِ مُدَمَّرُ
وَاَرْدَاکِ ضِلِّیْلٌ وَّ أَغْرَاکِ مُوْغِرُ
اے مُدّکی زمین! ایک ہلاک شدہ نے تیری خستگی کی حالت میں تجھے ہلاک کیا۔ اور سخت گمراہ کرنے والے نے تجھے مارا اور ایک غصّہ دلانے والے نے تجھے برانگیختہ کیا
دَعَوْتِ کَذُوْبًا مُّفْسِدًا صَیْدِیَ الَّذِیْ
کَحُوْتِ غَدِیْرٍاَخْذُہُ لَا یُعَذَّرُ
تو نے ایک جھوٹے مفسد‘ میرے شکار کو بُلا لیا۔ جس کا پکڑنا ڈھاب کی مچھلی کی طرح بڑا کام نہیں
وَجَاءَ کِ صَحْبِیْ نَاصِحِیْنَ کَاِخْوَۃٍ
یَقُوْلُوْنَ لَاتَبْغُوْا ھَوًی وَ تَصَبَّرُوْا
اور میرے دوست تیرے پاس آئے جو بھائیوں کی طرح نصیحت کرتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ ہواؤ ہوس کی طرف مَیل مت کرو اور صبر کرو
فَظَلَّ أُسَارٰی کُمْ اُسَارٰ ی تَعَصُّبٍ
یُرِیْدُوْنَ مَنْ یَّعْوِیْ کَذِءْبٍ وَّ یَخْتِرُ
پس تم میں سے وہ لوگ جو تعصّب کے قیدی تھے۔ انہوں نے چاہا کہ ایسا شخص تلاش کریں جو بھیڑیئے کی طرح چیخے اور فریب کرے
* مُدّ عربی عَلَم ہے عجمی نہیں ۔ مسلمان جن جن ملکوں میں گئے اور جو جو انہوں نے نام رکھے وہ اکثر عربی تھے۔ منہ
ء دفو کے معنی ہیں خستہ کو کشتہ کرنا۔ سو مُدّ کے لوگ اپنے اوہام کی وجہ سے پہلے ہی خستہ تھے ثناء اللہ نے جاکر اور جھوٹ بول کر ان کو کشتہ کر دیا اور وہ خود مدمّر تھا یعنی ہمارے آگے ہلاک شدہ تھا۔ سو ہلاک شدہ نے ان نادانوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ منہ
۱ ایڈیشن اول میں اس قصیدہ پر اعراب نہیں دئے گئے سوائے چند ایک مقامات کے اب قارئین کی سہولت کے لئے یہ اعراب دیئے جا رہے ہیں۔ (ناشر)