مُرشد سے اور مولوی ثناء اللہ اور اُن کے رفیق تو خود اپنے تئیں مولوی کہلاتے ہیں ناخنوں تک زور لگالیں۔
مَیں نے اِس قصیدہ میں جو امام حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت لکھا ہے یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت بیان کیا ہے۔ یہ انسانی کارروائی نہیں۔ خبیث ہے وہ انسان جو اپنے نفس سے کاملوں اور را ستبازوں پر زبان دراز کرتا ہے۔ مَیں یقین رکھتا ہوں کہ کوئی انسان حسین جیسے یا حضرت عیسیٰ جیسے را ستباز پر بدزبانی کر کے ایک رات بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ اور وعید مَنْ عَادَا وَلِیًّالِی دست بدست اُس کو پکڑ لیتا ہے۔ پس مُبارک وہ جو آسمان کے مصالح کو سمجھتا ہے اور خدا کی حکمت عملیوں پر غور کرتا ہے۔ اور میری طرف سے صرف دس۱۰ ہزار کے انعام کا وعدہ نہیں بلکہ وہ شریر جو گالیاں دینے سے باز نہیں آتا اورٹھٹھا کرنے سے نہیں رُکتا اور توہین کی عادت کو نہیں چھوڑتا اور ہر ایک مجلس میں میرے نشانوں سے انکار کرتا ہے اُس کو چاہیئے کہ میعاد مقررہ میں اِس نشان کی نظیر پیش کرے ورنہ ہمیشہ کے لئے اور دنیا کے انقطاع تک مفصلہ ذیل لعنتیں اُس پر آسمان سے پڑتی رہیں گی۔ بالخصوص مولوی ثناء اللہ صاحب جو خود انہوں نے میری نسبت دعویٰ کیا ہے کہ اِس شخص کا کلام معجزہ نہیں ہے اُن کو ڈرنا چاہئے کہ خاموش رہ کر ان لعنتوں کے نیچے کچلے نہ جائیں اور وہ لعنتیں یہ ہیں۔
وتلک عشرۃ کاملۃ
اب مَیں اپنے خدائے قدیر و کریم و قدوس و غیوّر پر توکل کر کے قصیدہ کو لکھتا ہوں اور اپنے مؤید اور محسن سے مدد چاہتا ہوں اے میرے پیارے قادر اور دِلوں کے اسرار کے گواہ میری مدد کر اور ایسا کر کہ یہ تیرا نشان دنیا میں چمکے اور کوئی مخالف میعاد مقرر ہ میں اس کی نظیربنانے میں قادر نہ ہو اے میرے پیارے ایسا ہی کر اور بہتوں کو اِس نشان اور اس تمام مضمون سے ہدایت دے۔ آمین ثم آمین