مولوی ثناء اللہ صاحب اور اُن کے رفیقوں کو ناحق کے افتراؤں کی حاجت نہیں رہے گی اور مفت میں اُن کی فتح ہو جائے گی ورنہ اُن کا حق نہیں ہوگا کہ پھر کبھی مجھے جھوٹا کہیں یا میرے نشانوں کی تکذیب کریں۔ دیکھو مَیں آسمان اور زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ آج کی تاریخ سے اس نشان پر حصر رکھتا ہوں۔ اگر مَیں صادق ہوں اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ مَیں صادق ہوں تو کبھی ممکن نہیں ہوگا کہ مولوی ثناء اللہ اور اُن کے تمام مولوی پانچ دِن میں ایسا قصیدہ بنا سکیں اور اُردو مضمون کا ردّ لکھ سکیں کیونکہ خداتعالیٰ اُن کی قلموں کو توڑ دے گا اور اُن کے دِلوں کو غبی کردے گا۔ اور مولوی ثناء اللہ کو اس بدگمانی کی طرف راہ نہیں ہے کہ وہ یہ کہے کہ قصیدہ پہلے سے بنا رکھا تھا کیونکہ وہ ذرا آنکھ کھول کر دیکھے کہ مباحثہ مُد کا اِس میں ذکر ہے۔ پس اگر مَیں نے پہلے بنایا تھا تب تو اُنہیں ماننا چاہئے کہ مَیں عالم الغیب ہوں۔ بہر صورت یہ بھی ایک نشان ہوا اِس لئے اب ان کو کسی طرف فرار کی راہ نہیں اور آج وہ الہام پورا ہوا جو خدا نے فرمایا تھا۔ ’’قادر کے کاروبار نمودار ہوگئے کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے‘‘ اور واضح رہے کہ مولوی ثناء اللہ کے ذریعہ سے عنقریب تین نشان میرے ظاہر ہوں گے (۱)وہ قادیان میں تمام پیشگوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہرگز نہیں آئیں گے اور سچی پیشگوئیوں کی اپنے قلم سے تصدیق کرنا اُن کے لئے موت ہوگی (۲)اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ کاذب صادق کے پہلے مر جائے تو ضرور وہ پہلے مریں گے (۳) اور سب سے پہلے اس اُردو مضمون اور عربی قصیدہ کے مقابلہ سے عاجز رہ کر جلد تر اُن کی رُو سیاہی ثابت ہو جائے گی۔ اور ؔ چونکہ ان دنوں میں مولوی محمد حسین نے سائیں مہر علی گولڑی کی علمیت کی اپنے اشاعۃ السنّہ میں بہت ہی تعریف کی ہے اور علی حائری صاحب شیعہ اپنی تعریف میں پھول رہے ہیں اس لئے مَیں اُن کو بھی اِس مقابلہ کے لئے بلاتا ہوں۔ گالیاں دینے اور ٹھٹھا کرنے میں ان لوگوں کی زبان چالاک ہے لیکن اب مَیں دیکھوں گا کہ خدا سے ان کو کس قدر مدد مل سکتی ہے۔ مَیں نے ان لوگوں کی نسبت بھی اس قصیدہ میں کچھ لکھا ہے تا ان کی غیرت کو حرکت دوں یہ ایک آخری فیصلہ ہے شیعہ حسین سے مدد لیں اور گولڑی صاحب کسی اپنے