کچھ بیان ہیں اور اپنے بھائیوں کے ساتھ اندرون حُجرے کچھ بیان یہ اُن کے منافقانہ طریق کو ثابت کررہی ہیں اور منافق خدا کے نزدیک بھی ذلیل ہوتا ہے اور مخلوق کے نزدیک بھی۔ یہ لوگ درحقیقت مشکلات میں ہیں ان کے توکئی عقیدے گورنمنٹ کے مصالح کے برخلاف ہیں۔اب اگر منافقانہ طریق اختیار نہ کریں تو کیا کریں۔
غرض مولوی محمد حسین صاحب کی عربی دانی کے ہم آج سے قائل نہیں بلکہ اُسی وقت سےؔ ہم قائل ہیں جب اُنہوں نے فرمایا تھا کہ عجب کاصلہ ہرگز لام نہیں آتا ایسے متبحر فاضل نے اگر اعجاز المسیح کی غلطیوں کی ایک لمبی فہرست تیار کی ہو تو ہمیں اس سے کب انکار ہے ضرورتیار کی ہوگی۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کو معلوم ہوگا کہ پہلا نشانہ عربی کے مقابلہ کا یہی فاضل صاحب ہیں جن کو مَیں نے لکھا تھا کہ فی غلطی ہم آپ کو پانچ روپیہ انعام دے سکتے ہیں بشرطیکہ اوّل آپ اپنا عربی دان ہونا ثابت کردیں اور وہ اِس طرح پر کہ میرے زانو بزانو بیٹھ کر کسی آیت کی تفسیر ایک جزویا دو جزو تک عربی فصیح میں لکھیں پھر بعد اس کے آپ کی طرف سے کوئی آواز نہیں آئی۔ ہر ایک انسان سمجھ سکتا ہے کہ غلطی نکالنا اُس شخص کا حق ہے جو اوّل لیاقت اپنی ثابت کرے ورنہ صرف بکواس ہے۔ اگر مثلاً کوئی شخص فن عمارت سے جاہل محض ہو اور یہ کہتا پھرے کہ اس ملک کے معمار اپنے کام میں غلطی کرتے ہیں تو کیا وہ اِس لائق نہیں ہوگا کہ اُس کو کہا جائے کہ اے نادان تُو تو ایک اینٹ بھی موزون طور پرلگا نہیں سکتا تو ان معماروں پر کیوں اعتراض کرتا ہے جن کے ہاتھ سے بہت سی عمارتیں طیار موجود ہیں۔
اب یاد رہے کہ اگرچہ مَیں اب تک عربی میں ستر۱۷ہ کے قریب بے مثل کتابیں شائع کر چکا ہوں جن کے مقابل میں اِس دس برس کے عرصہ میں ایک کتاب بھی مخالفوں نے شائع نہیں کی۔ مگر آج مجھے خیال آیا کہ چونکہ وہ کتابیں صرف عربی فصیح بلیغ میں ہی نہیں بلکہ ان میں بہت سے قرآنی حقائق معارف ہیں اِس لئے ممکن ہے کہ وہ لوگ یہ جواب دیں کہ ہم حقائق معارف سے ناآشنا ہیں اگر صرف عربی فصیح میں نظم ہوتی جیسے عام قصائد ہوتے ہیں تو ہم بلاشبہ اس کی نظیر بنا سکتے