اور نیز یہ بھی خیال آیا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب سے اگر صرف کتاب اعجاز المسیح کی نظیر طلب کی جائے تو وہ اس میں ضرور کہیں گے کہ کیونکر ثابت ہو کہ ستر۷۰ دِن کے اندر یہ کتاب تالیف کی گئی ہے اور اگر وہ یہ حجت پیش کریں کہ یہ کتاب دو برس میں بنائی گئی ہے اور ہمیں بھی دو برس کی مُہلت ملے تو مشکل ہوگا کہ ہم صفائی سے ان کو ستر دن کا ثبوت دے سکیں۔ ان وجوہات سے مناسب سمجھا گیا کہ خدا تعالیٰ سے یہ درخواست کی جائے کہ ایک سادہ قصیدہ بنانے کے لئے روح القدس سے مجھے تائید فرماوے جس میں مباحثہ مُدّکا ذکر ہو۔تا اِس بات کے سمجھنے کے لئے دقّت نہ ہو کہ وہ قصیدہ کتنے دنؔ میں طیار کیا گیا ہے۔ سو مَیں نے دُعا کی کہ اے خدائے قدیر مجھے نشان کے طور پر توفیق دے کہ ایسا قصیدہ بناؤں۔ اور وہ دُعا میری منظور ہوگئی اور روح القدس سے ایک خارق عادت مجھے تائید ملی اور وہ قصیدہ پانچ دن میں ہی مَیں نے ختم کرلیا۔ کاش اگر کوئی اور شغل مجبور نہ کرتا تو وہ قصیدہ ایک دن میں ہی ختم ہو جاتا۔ کاش اگر چھپنے میں کسی قدردیر* نہ لگتی تو نو۹ نومبر ۱۹۰۲ء تک وہ قصیدہ شائع ہو سکتا تھا۔
یہ ایک عظیم الشان نشان ہے جس کے گواہ خود مولوی ثناء اللہ صاحب ہیں کیونکہ قصیدہ سے خود ثابت ہے کہ یہ اُن کے مباحثہ کے بعد بنایا گیا ہے اور مباحثہ ۲۹؍ اور ۳۰ ؍اکتوبر ۱۹۰۲ء کو ہوا تھا اور ہمارے دوستوں کے واپس آنے پر ۸؍ نومبر ۱۹۰۲ء کو اِس قصیدہ کا بنانا شروع کیا گیا اور ۱۲؍نومبر ۱۹۰۲ء کو معہ اِس اُردو عبارت کے ختم ہو چکا تھا۔ چونکہ مَیں یقین دِل سے جانتا ہوں کہ خدا کی تائیدکا یہ ایک بڑا نشان ہے تا وہ مخالف کو شرمندہ اور لاجواب کرے۔ اِس لئے مَیں اِس نشان کو دس ہزار۱۰۰۰۰ روپیہ کے انعام کے ساتھ مولوی ثناء اللہ اور اُس کے مددگاروں کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ اگر وہ اسی میعاد میں یعنی پانچ دن میں ایسا قصیدہ معہ اِسی قدر اُردو مضمون کے جواب کے جو وہ بھی ایک نشان ہے بنا کر شائع کردیں تو مَیں بلا توقف
* دیر کا ایک یہ بھی باعث ہوا کہ مجھے منصف صاحب کی عدالت میں تاریخ۷؍نومبر ۱۹۰۲ء کو بٹالہ
جانا پڑا اصل تالیف کا زمانہ تو محض تین دن تھے اور دو دِن باعث حرج اور زائد ہوگئے۔منہ