آئے گا جو خونریزی سے قیامت برپا کر دے گا۔ اور نہ ایسا کوئی مسیح جوآسمان سے اُتر کر اُس کا ہاتھ بٹائے گا۔ اور پھر پوشیدہ طورپر اپنیؔ قوم کو یہ کہتا ہے کہ ایسے مہدی سے انکار کرنا کفر ہے۔ اور عجیب تر یہ کہ ان کارروائیوں سے اُس کی عزّت میں کچھ فرق نہیں آیا اور نہ اُس کے پَیروؤں کی کچھ عزت بگڑی۔
غرض یہی ذلّت تھی جو مولوی محمد حسین صاحب کے نصیب ہوئی جس میں جعفرز ٹلی وغیرہ اُن کے پَیرو حصّہ دار ہیں چاہے بے حیائی سے محسوس کریں یا نہ کریں۔ اور دوسری ذلّت علمی رنگ میں اُن کو نصیب ہوئی کہ ناحق لوگوں میں شور مچایا کہ عجب کاصلہ ہرگز لام نہیں آتا بڑی غلطی کی ہے۔ لیکن مولوی ثناء اللہ کا ارادہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیا ذلّتیں ہیں کوئی اور ذلّت ہونی چاہئیے تھی اور کہتے ہیں کہ اُن کو تو زمین مل گئی حالانکہ یہی زمین تو اُن کی ذلّت کی گواہ ہے اور دو رنگی پرشاہد ناطق جب تک وہ زمین اُن کے ہاتھ میں ہے یہ دو رنگی بھی اُس زمین کا ایک پھل متصور ہوگا۔ یا یوں سمجھ لو کہ زمین اُس کا پھل ہے اور تم تحقیق کر لو کہ یہ تمام کامیابی ایک منافقانہ کارروائی کا نتیجہ ہے ان لوگوں کے مخفی اعتقاد اگر دیکھنے ہوں تو صدیق حسن کی کتابیں دیکھنی چاہئیں جن میں وہ نعوذ باللہ ملکہ معظمہ کوبھی مہدی کے سامنے پیش کرتا ہے اور نہایت بُرے اور گستاخی کے الفاظ سے یاد کرتا ہے جن کو ہم کسی طرح اس جگہ نقل نہیں کرسکتے جو چاہے ان کتابوں کو دیکھ لے یہ وہی صدیق حسن ہے جس کو محمد حسین نے مجدّد بنایا ہوا تھا۔ بھلا کیونکر اور کس طور سے اپنے مجدّد کی رائے سے اُن کی رائے الگ ہو سکتی ہے۔ ہرگز نہیں۔ یہ بات تو بہت اچھی ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کی جائے اور جہاد کے خراب مسئلہ کے خیال کو دِلوں سے مٹا دیا جائے اور ایسے خونریز مہدی اور خونریز مسیح سے انکار کیا جائے۔ لیکن کاش اگر دِل کی سچائی سے مولوی محمد حسین صاحب یہ باتیں گورنمنٹ کے سامنے پیش کرتے تو بلا شبہ ہماری نظر میں بھی قابلِ تحسین ٹھہرتے۔ مگر اب اُن کی متناقض کتابیں جو گورنمنٹ کے سامنے