ایکؔ اور بات رہ گئی جس کا بیان کرنا لازم ہے اور وہ یہ کہ مُدّ کے مباحثہ میں جب ہمارے مخلص دوست سیّد محمد سرور شاہ صاحب نے اعجاز المسیح کو جو میری عربی کتاب ہے بطور نشان کے پیش کیا کہ یہ ایک معجزہ ہے اور اس کی نظیر پر مخالف قادر نہیں ہوئے تو مولوی ثناء اللہ صاحب نے مولوی محمد حسین بٹالوی کا حوالہ دے کر کہا کہ اُنہوں نے اعجاز المسیح کی غلطیوں کے بارے میں ایک لمبی فہرست تیار کی ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ تیار کی ہوگی۔ مگر وہ ایسی ہی فہرست ہوگی جیسا کہ پہلے مولوی صاحب موصوف نے میرے ایک فقرے پر اعتراض کیا تھا۔ کہ عجب کا لام صلہ نہیں آتا۔ اور اس پر بہت زور دیا تھا اور جب اُن کو کئی قدیم استادوں اور جاہلیت کے شاعروں کے شعر بلکہ بعض حدیثیں دکھلائی گئیں جن میں لام صلہ آیا تھاتو پھر مولوی صاحب چاہِ ندامت میں ایسے غرق ہوگئے کہ کوئی ان کا ادیب رفیق بھی اِس کنوئیں سے اُن کو نکال نہ سکا۔ یہ اُنہیں دِنوں کی بات ہے جب مولوی صاحب کی ذِلّت کے لئے پیشگوئی کی گئی تھی اور اشتہار میں لکھا گیا تھا کہ وہ پیشگوئی دو طور سے پوری ہوئی۔ اوّل یہ کہ مولوی صاحب کی منافقانہ عادت ثابت ہوگئی کہ گورنمنٹ کو تو یہ تسلّی دیتے ہیں کہ مہدی کچھ چیز نہیں تمام حدیثیں مجروح ہیں قابل اعتبار نہیں کیسا مہدی اور کیسا وہ مسیح جو آسمان سے اُس کی مدد کے لئے آئے گا۔ سب باتیں بے اصل ہیں اور ان باتوں کو پیش کر کے بڑے انعام کے خواہشمند معلوم ہوتے ہیں اور اگر وہ دِل سے ایسے مہدی اور ایسے مجاہد عیسیٰ کا انکار کرتے تو ہم بھی ان پر بہت خوش ہوتے کیونکہ سچ بولنے والا عزّت کے لائق ہوتا ہے اور اِس صورت میں اگر گورنمنٹ نہ صرف لائلپور میں کچھ زمین بلکہ بٹالہ اس کو جاگیر میں دے دیتی تو بھی ان کا حق تھا۔ لیکن ہم اس پر راضی نہیں ہیں اور ہرگز نہیں ہو سکتے کہ ایک شخص محض نفاق کے طور پر گورنمنٹ کے آگے مہدی کی ضعیف اور مجروح حدیثوں کی ایک فہرست پیش کر کے یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ مسلمان ایسے مہدی اور ایسے عیسیٰ کے منتظر نہیں ہیں جو عیسائیوں کے ساتھ لڑے گا اور یہ یقین دلاتا ہے کہ میرا تو یہی عقیدہ ہے کہ کوئی ایسا مہدی نہیں