مہدی کے وقت رمضان کے مہینہ میں اور ان تاریخوں میں کبھی خسوف کسوف نہیں ہوا اور اگر ہوا ہے تو اس کو پیش کرو ورنہ جبکہ یہ صورت اپنی ہیئت مجموعی کے لحاظ سے خود خارق عادت ہے تو کیا حاجت کہ سنّت اللہ کے برخلاف کوئی اور معنے کئے جائیں۔ غرض تو ایک علامت کا بتلانا تھا سو وہ متحقق ہوگئی اگر متحقق نہیں تو اِس واقعہ کی صفحۂ تاریخ میں کوئی نظیر تو پیش کرو اور یاد رہے کہ ہرگز پیش نہ کر سکوگے۔
اُردو نظم
کیوں نہیں لوگو تمہیں حق کا خیال
دِل میں آتا ہے مِرے سَو سَو اُبال
آنکھ تر ہے دِل میں میرے درد ہے
کیوں دِلوں پر اِس قدر یہ گرد ہے
دِل ہوا جاتا ہے ہردم بے قرار
کِس بیاباں میں نکالوں یہ بخار
ہوگئے ہم درد سے زیر و زبر
مَر گئے ہم پر نہیں تم کو خبر
آسماں پر غافلو اِک جوش ہے
کچھ تو دیکھو گر تمہیں کچھ ہوش ہے
ہوگیا دیں کفر کے حملوں سے چُور
چُپ رہے کب تک خداوندِ غیور
اِس صدی کا بیسواں اب سال ہے
شرک و بدعت سے جہاں پامال ہے
بدگماں کیوں ہو خدا کچھ یاد ہے
افترا کی کب تلک بنیاد ہے
وہ خدا میرا جو ہے جوہر شناس
اِک جہاں کو لارہا ہے میرے پاس
*** ہوتا ہے مَردِ مُفتری
*** کو کب ملے یہ سروری