ہیں۔ اور ایسا ہی شمس کے لئے تین دن مقرر ہیں اور حدیث میں صریح ذکر ہے کہ اُس زمانہ میں جب مہدی پیدا ہوگا قمر کا خسوف اُس کی پہلی رات میں ہوگا جو قانون قُدرت میں اُس کے خسوف کے لئے مقرر ہے۔ اور سورج کا خسوف اُس کے بیچ کے دِن میں ہوگا جو اُس کے خسوف کے لئے سُنّت اللہ میں مقرر ہے۔ اِس سیدھے معنے کو چھوڑنا اور دوسری طرف بہکے پھرنا اگر بدبختی نہیں تو اور کیا ہے۔
علاوہ اِس کے عرب کے نزدیک وہ رات جس میں ہلال کو قمر کہا جاتا ہے کوئی مخصوص رات نہیں جس میں اختلاف نہ ہو۔ بعض کہتے ہیں کہ ایک رات ہلال رہتاہے۔ دوسری رات قمر شروع ہو جاتا ہے۔ بعض تیسری رات کے چاند کو قمر کہتے ہیں۔ بعض کے نزدیک سات رات تک ہلال ہی ہے۔ پس اِس صورت میں پیشگوئی کے ظہور کے لئے کوئی خاص رات معیّن نہیں رہتی۔
اورؔ یہ کہناکہ سُنّت اللہ کے موافق کسوف خسوف ہونا کوئی خارق عادت امر نہیں یہ دوسری حماقت ہے۔ اصل غرض اِس پیشگوئی سے یہ نہیں ہے کہ کسی خارق عادت عجوبہ کا وعدہ کیا جائے بلکہ غرض اصلی ایک علامت کو بیان کرنا ہے جس میں دوسرا شریک نہ ہو۔
پس حدیث میں یہ علامت بیان کی گئی ہے کہ جب وہ سچا مہدی دعویٰ کرے گا تو اُس زمانہ میں قمر رمضان کے مہینہ میں اپنے خسوف کی پہلی رات میں منخسف ہوگا اور ایسا واقعہ پہلے کبھی پیش نہ آیا ہوگا اَور کسی جھوٹے