کیونکہ وہ حقیقتِ نبوت قریب سے اُن کو دکھائی گئی اور بار بار دکھائی گئی۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کو یہ بھی ایک دھوکا لگا ہوا ہے کہ وہ متناقض حدیثوں کو ہر ایک کے سامنے پیش کردیتے ہیں یہی دھوکا اُن کے بزرگ مولوی محمد حسین صاحب کو لگا ہوا ہے۔ اور ہر ایک مقام میں جب حیات ممات حضرت عیسیٰ کے متعلق کوئی ذکر آوے توجھٹ حدیثوں کا ایک ڈھیر پیش کردیتے ہیں کہ دیکھو صحیح بخاری۔ صحیح مسلم۔جامع ترمذی۔ سُنن ابن ماجہ۔ سُنن ابی داؤد۔ سُنن نسائی۔ مسندامام احمد۔ طبرانی۔ معجم کبیر۔ نعیم ابن حماد۔ مستدرک حاکم۔ صحیح ابن خزیمہ۔ نوادرالاصول ترمذی۔ ابوداؤد طیالسی۔ احمد۔ مسندالفردوس۔ ابن عساکر۔ کتاؔ ب الو فا ابن جوزی۔ شرح السنہ بغوی۔ابن جریر۔ بیہقی۔ اخبارالمہدی۔ مسندابی یعلٰی وغیرہ کتب حدیث۔ ا ن میں یہی لکھا ہے کہ عیسیٰ نازل ہوگا گو بیت المقدس میں یاد مشق میں یا افیق میں یا مسلمانوں کے لشکر میں اِس کا کوئی فیصلہ نہیں اور یہ ہوّا ہے جو آج کل پیش کیا جاتا ہے۔ اور عجیب تر یہ کہ بعض ان کتابوں میں سے ایسی نایاب ہیں کہ ان حضرات کے باپ نے بھی نہیں دیکھی ہوں گی مگر ان کے نام سنا دیتے ہیں تاکم سے کم یہی سمجھا جائے کہ بڑے مولوی صاحب ہیں جو اتنی کتابیں جانتے ہیں۔ افسوس یہ لوگ خیانت پیشہ ہیں ہم تو اب یہود کا نام لینے سے بھی شرمندہ ہیں کیونکہ اسلام میں ہی ایسے یہودی موجود ہیں۔ ابھی تھوڑے دن گزرے ہیں کہ مولوی محمد حسین صاحب نے سرکار انگریزی کو مہدی کے بارے میں ایک کتاب پیش کر کے خوش کر دیا ہے جس میں لکھا ہے کہ مہدی کے بارے میں کوئی حدیث صحیح ثابت نہیں ہوئی اور زمین کا انعام بھی پایا ہے۔ معلوم نہیں کہ کس صلہ میں۔ مگر خدمت تو یہی ہے کہ مہدی کے وجود پر قلم نسخ پھیر دیا ہے۔ اب بتلاؤ آسمان سے مسیح کس کے لشکر میں اُترے گا جبکہ مہدی ندارد ہے۔ اس قدر کتابیں جن کا مَیں نے ابھی ذکر کیا ہے وہ تو اسی غرض سے پیش کی جاتی ہیں کہ مہدی کی مدد کے لئے مسیح آئے گا۔ اب جب مہدی کا ہی وجود نہیں تو کیوں آئے گا۔ خلیفہ تو قریش میں سے ہونا چاہئیے سو وہ تو نہ رہا۔