دیکھو ہم انصاف سے کہتے ہیں کہ متذکرہ بالا کتابوں میں جو حدیثیں ہیں ان کی دو ٹانگیں تھیں ایک ٹانگ مہدی والی سو وہ مولوی محمد حسین صاحب نے توڑ دی۔ اب دوسری ٹانگ مسیح کے آسمان سے اُترنے کی ہم توڑ دیتے ہیں۔ کیونکہ دو جُزوں میں سے جب ایک جُز باطل ہو جائے تو وہ اِس بات کی مستلزم ہوئی کہ دوسرا جُزبھی باطل ہے۔ عیسیٰ کے لئے تو خلافت مسلّم نہیں کیونکہ وہ قریش میں سے نہیں۔ اور مہدی کا تو خود مولوی صاحب نے خاتمہ کر دیا۔ تو پھر عیسیٰ کو دوبارہ زمین پر آنے کی کیوں تکلیف دی جائے۔ اُن کو دوہزار برس سے بیکار رہنے کی عادت ہے اور طبیعت آرام طلب۔ اب خواہ مخواہ پھر تکلیف دینا نا مناسب ہے۔
علاوہ اِس کے ان حدیثوں کے درمیان اس قدر تناقض ہے کہ اگر ایک حدیث کے برخلاف دُوسرؔ ی حدیث تلاش کرو تو فی الفور مل جائے گی۔ پس اِس سے قرآن شریف کے بیّنات کو چھوڑنا اور ایسی متناقض حدیثوں کے لئے ایمان ضائع کرنا کسی ابلہ کا کام ہے نہ عقلمند کا۔
پھر یہ بھی سوچو کہ اگر قرآن کے مخالف ہو کر حدیثیں کچھ چیز ہیں تو نماز کی حدیثوں کو تو سب سے زیادہ وقعت ہونی چاہئے تھی اور تواتر کے رنگ میں وہ ہونی چاہئے تھیں مگر وہ بھی آپ لوگوں کے تنازع اور تفرقہ سے خالی نہیں ہیں۔ یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ ہاتھ کہاں باندھنے چاہئیں اور رفع یدین اور عدم رفع اور فاتحہ خلف امام اور آمین بِالجہر وغیرہ کے جھگڑے بھی اب تک ختم ہونے میں نہیں آئے اور بعض بعض کی حدیثوں کو ردّ کررہے ہیں۔ اگر ایک وہابی حنفیوں کی مسجد میں جاکر رفع یدین کرے اور امام کے پیچھے فاتحہ پڑھے اور سینہ پر ہاتھ باندھے اور آمین بِالجہر کرے تو گو اس عمل کی تائید میں چار سو صحیح حدیث سناوے تب بھی وہ ضرور مار کھا کر آئے گا۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابتداسے ہی حدیثوں کو بہت عظمت نہیں دی گئی اورامام اعظم جو امام بخاری سے پہلے گزرچکے ہیں بخاری کی حدیثوں کی کچھ پروا نہیں کرتے اور اُن کا زمانہ اقرب تھا چاہئے تھا کہ وہ حدیثیں اُن کو پہنچتیں اِس لئے مناسب ہے کہ حدیث کے لئے قرآن کو نہ چھوڑا جائے۔ ورنہ ایمان ہاتھ سے جائے گا۔