مگر چونکہ مقرب اور خدا کے پیارے تھے اِس لئے وہ شیطانی وسوسے قائم نہ رہ سکے۔ اور جلد آپ نے سمجھ لیا کہ میری آسمان کی بادشاہت ہے نہ زمین کی۔
غرض حضرت مسیح کا یہ اجتہاد غلط نکلا۔ اصل وحی صحیح ہوگی مگر سمجھنے میں غلطی کھائی۔ افسوس ہے کہ جس قدر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اجتہادات میں غلطیاں ہیں اُس کی نظیر کسی نبی میں بھی پائی نہیں جاتی۔ شاید خدائی کے لئے یہ بھی ایک شرط ہوگی۔ مگر کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کے بہت سے غلطؔ اجتہادوں اور غلط پیشگوئیوں کی وجہ سے اُن کی پیغمبری مشتبہ ہوگئی ہے۔ ہرگز نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جس یقین کو نبی کے دل میں اُس کی نبوت کے بارے میں بٹھایا جاتا ہے وہ دلائل تو آفتاب کی طرح چمک اُٹھتے ہیں اور اس قدر تو اتر سے جمع ہوتے ہیں کہ وہ امر بدیہی ہو جاتا ہے۔ اور پھر بعض دوسری جزئیات میں اگر اجتہاد کی غلطی ہو بھی تو وہ اس یقین کو مضر نہیں ہوتی جیسا کہ جو چیزیں انسان کے نزدیک لائی جائیں اور آنکھوں کے قریب کی جائیں تو انسان کی آنکھ اُن کے پہچاننے میں غلطی نہیں کھاتی۔ اور قطعاً حکم دیتی ہے کہ یہ فلاں چیز ہے اور اس مقدار کی ہے اور وہ حکم صحیح ہوتا ہے اور ایسی رویت کی شہادت کو عدالتیں قبول کرتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی چیز قریب نہ لائی جائے اور مثلاً نصف میل یاپاؤمیل سے کسی انسان کو پوچھا جائے کہ وہ سفید شے کیا چیز ہے تو ممکن ہے کہ ایک سفید کپڑے والے انسان کو ایک سفید گھوڑا خیال کرے یا ایک سفید گھوڑے کو انسان سمجھ لے۔ پس ایسا ہی نبیوں اور رسولوں کو اُن کے دعویٰ کے متعلق اور اُن کی تعلیموں کے متعلق بہت نزدیک سے دکھایا جاتا ہے اور اس میں اس قدر تواتر ہوتا ہے، جس میں کچھ شک باقی نہیں رہتا۔ لیکن بعض جُزوی امور جو اہم مقاصد میں سے نہیں ہوتے اُن کونظر کشفی دُور سے دیکھتی ہے اور اُن میں کچھ تواتر نہیں ہوتا۔ اِس لئے کبھی اُن کی تشخیص میں دھوکا بھی کھا لیتی ہے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جو اپنی پیشگوئیوں میں دھوکے کھائے وہ اِسی رنگ میں کھائے تھے۔ مگر نبوت کے دعوے میں اُنہوں نے دھوکانہیں کھایا