ایکؔ شریر یہودی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک بیگانہ عورت پر آپ عاشق ہوگئے تھے۔ لیکن جو بات دشمن کے مُنہ سے نکلے وہ قابلِ اعتبار نہیں* ۔ آپ خدا کے مقبول اور پیارے تھے۔ خبیث ہیں وہ لوگ جو آپ پر یہ تہمتیں لگاتے ہیں۔ ہاں آپ نے اجتہادی غلطی سے داؤد کے تخت کی تمنّا کی تھی مگر وہ تمنّا پوری نہ ہوئی اور مطابق مثل مشہور کہ بن مانگے موتی ملیں مانگے ملے نہ بھیک۔ آپ تو داؤد کے تخت سے محروم رہے۔ مگر وہ برگزیدۂ خدا سیّد الرسل جس نے دنیا کی بادشاہت سے منہ پھیر کر کہا تھا کہ اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ یعنی فقر میرا فخر ہے اُس کو خدا نے بادشاہت دے دی۔ اُس نے کہا تھا کہ مَیں ایک دن فاقہ چاہتا ہوں اور ایک دن روٹی۔ مگر خدا نے اُس کو فقر و فاقہ سے بچایا۔ یہ خاص فضل ہے۔
حضرت مسیح کے اجتہاد جو اکثر غلط نکلے اِس کا سبب شاید یہ ہوگا کہ اوائل میں جو آپ کے ارادے تھے وہ پورے نہ ہو سکے۔ غرض ان باتوں سے نبوت میں کچھ خلل نہیں آیا۔ نبی کے ساتھ صدہا انوار ہوتے ہیں جن سے وہ شناخت کیا جاتا ہے۔ اور جن سے اُس کے دعویٰ کی سچائی کھلتی ہے۔ پس اگر کوئی اجتہاد غلط ہو تو اصل دعویٰ میں کچھ فرق نہیں آتامثلاً آنکھ اگر دُور کے فاصلہ سے انسان کو بیل تصور کرے تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ آنکھ کا وجود بے فائدہ ہے یا اُس کی رویت قابلِ اعتبار نہیں۔ پس نبی کے لئے اُس کے دعویٰ اور تعلیم کی ایسی مثال ہے جیسا کہ قریب سے آنکھ چیزوں کو دیکھتی ہے اور اُن میں غلطی نہیں کرتی۔ اور بعض اجتہادی امور میں غلطی کی ایسی مثال ہے جیسے دُور دراز کی چیزوں کو آنکھ دیکھتی ہے تو کبھی ان کی تشخیص میں غلطی کر جاتی ہے۔ اِسی بناپر ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسٰی ؑ کو جو یہودیوں کی بھلائی کے لئے اپنی بادشاہت کا خیال تھا۔ اس لئے بموجب آیت کریمہ
شیطان نے آپ کو دھوکا دیا اور داؤد کے تخت کا لالچ دِل میں ڈال دیا۔
* نوٹ۔ عیسائی بھی ایسی بکواس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا کرتے ہیں اور حضرت موسٰیؑ پر بھی ایک مرتبہ ایسا ہی الزام لگایا گیا تھا۔منہ