یہ خیال سراسر سفسطہ ہے اور جو لوگ نیم سودائی ہوتے ہیں وہ ایسی ہی باتیں کیا کرتے ہیں اور اگر اُن کا یہی اعتقاد ہے تو تمام نبیوں کی نبوت سے اُن کو ہاتھ دھو بیٹھنا چاہئے کیونکہ کوئی نبی نہیں جس نے کبھی نہ کبھی اپنے اجتہاد میں غلطی نہ کھائی ہو۔ مثلاً حضرت مسیحؑ جو خدا بنائے گئے اُن کی اکثر پیشگوئیاں غلطی سے پُر ہیں۔ مثلاً یہ دعویٰ کہ مجھے داؤد کا تخت ملے گا بجُز اِس کے ایسے دعویٰ کے کیا معنے تھے کہ کسی مجمل الہام پر بھروسہ کر کے اُن کو یہ خیال پیدا ہوا کہ مَیں بادشاہ بن جاؤں گا داؤد کی اولاد سے تو تھے ہی اور بگفتن شہزادہ۔ اِس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو تخت اور بادشاہت کی بہت خواہش تھی اور اس طرف یہود بھی منتظر تھے کہ کوئی اُن میں سے پیدا ہو کہ تا اُن کی دوبارہ بادشاہت قائم کرے اور رُومیوں کی اطاعت سے اُن کو چھڑا وے۔ سو درحقیقت ایسا دعویٰ کہ داؤد کا تخت پھر قائم ہوگا یہودیوں کی عین مُراد تھی اور ابتدا میں اِس بات سے خوش ہو کر بہت سے یہودی آپ کے پاس جمع ہوگئے تھے۔ مگر بعد اس کے کچھ ایسے اتفاق پیش آئے کہ یہودیوں نے سمجھ لیا کہ یہ شخص اس بخت اور قسمت کاآدمی نہیں اس لئے ان سے علیحدہ ہوگئے اور بعض شریر آدمیوں نے گورنمنٹ رُومی کے گورنر کے پاس بھی یہ خبر پہنچادی کہ یہ شخص داؤد کے تخت کا دعویدار ہے۔ تب حضرت مسیح نے فی الفور پہلو بدل لیا اور فرمایا کہ میری بادشاہت آسمانی ہے زمین کی نہیں۔ مگر یہودی اب تک اعتراض کرتے ہیں کہ اگر آسمانی بادشاہت تھی تو آپ نے حواریوں کو یہ حکم کیوں دیا تھا کہ کپڑے بیچ کر ہتھیار خرید لو۔ پس اِس میں شک نہیں کہ حضرت مسیح کے اجتہاد میں غلطی تھی اور ممکن ہے کہ یہ شیطانی وسوسہ ہو جس کے بعد آپ نے رجوع کر لیا کیونکہ انبیاء غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے۔ اور مَیں نے شیطانی وسوسہ محض انجیل کی تحریر سے کہا ہے کیونکہ انجیل سے ثابت ہے کہ کبھی کبھی آپ کو شیطانی الہام بھی ہوتے تھے* مگر آپ اُن الہامات کو ردّ کردیتے تھے اور خدا تعالیٰ مس شیطان سے آپ کو بچا لیتا تھا جیسا کہ اسلام کی حدیثوں میں آپ کی یہ صفات لکھی ہیں اور آپ ہمیشہ محفوظ رہے۔ کبھی آپ نے شیطان کی پَیروی نہیں کی۔ * نوٹ۔ جرمن کے تین پادریوں نے شیطان کے مکالمہ کے جس کا انجیل میں ذکر ہے یہی معنے کئے ہیں۔ منہ