مدعو کرتے ہیں اور خدا کی قسم دیتے ہیں کہ وہ اِس تحقیق کے لئے قادیان میں آویں اور تمام پیشگوئیوں کی پڑتال کریں اور ہم قسم کھا کر وعدہ کرتے ہیں کہ ہر ایک پیشگوئی کی نسبت جو منہاج نبوت کی رُو سے جھوٹی ثابت ہو ایک ایک سَو روپیہ اُن کی نذر کریں گے۔ ورنہ ایک خاص تمغہ *** کا اُن کے گلے میں رہے گا۔ اور ہم آمد و رفت کا خرچ بھی دیں گے۔ اور کُل پیشگوئیوں کی پڑتال کرنی ہوگی تا آئندہ کوئی جھگڑا باقی نہ رہ جاوے۔ اور اسی شرط سے روپیہ ملے گا اور ثبوت ہمارے ذمہ ہوگا۔
یاد رہے کہ رسالہ نزول المسیح میں ڈیڑھ ۱۵۰سو پیشگوئی مَیں نے لکھی ہے تو گویا جھوٹ ہونے کی حالت میں پندرہ ہزار روپیہ مولوی ثناء اللہ صاحب لے جائیں گے اور دربدر گدائی کرنے سے نجات ہوگی بلکہ ہم اور پیشگوئیاں بھی معہ ثبوت ان کے سامنے پیش کردیں گے اور اسی وعدہ کے موافق فی پیشگوئی سو روپیہ دیتے جائیں گے۔ اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ میری جماعت ہے۔ پس اگر مَیں مولوی صاحب موصوف کے لئے ایک ایک روپیہ بھی اپنے مریدوں سے لوں گا تب بھی ایک لاکھ روپیہ ہو جائے گا وہ سب اُن کی نذر ہوگا جس حالت میں دو دو آنہ کے لئے وہ دربدر خراب ہوتے پھرتے ہیں اور خدا کا قہر نازل ہے اور مُردوں کے کفن یا وعظ کے پیسوں پر گزارہ ہے ایک لاکھ روپیہ حاصل ہو جانا اُن کے لئے ایک بہشت ہے لیکن اگر میرے اِس بیان کی طرف توجہ نہ کریں اور اس تحقیق کے لئے بپابندی شرائط مذکورہ جس میں بشرط ثبوت تصدیق ورنہ تکذیب دونوں شرط ہیں۔ قادیان میں نہ آئیں تو پھر *** ہے اُس لاف و گذاف پر جواُنہوں نے موضع مُدّ میں مباحثہ کے وقت کی اور سخت بے حیائی سے جھوٹ بولا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 3 ۱ مگر اُنہوں نے بغیر علم اور پوری تحقیق کے عام لوگوں کے سامنے تکذیب کی کیا یہی ایمانداری ہے۔ وہ انسان کتوں سے بدتر ہوتا ہے کہ جو بے وجہ بھونکتا ہے اور ؔ وہ زندگی *** ہے جو بے شرمی سے گزرتی ہے۔
اور بعض کا یہ خیال ہے کہ اگر کسی الہام کے سمجھنے میں غلطی ہو جائے تو امان اُٹھ جاتا ہے اور شک پڑ جاتا ہے کہ شاید اُس نبی یا رسول یا محدّث نے اپنے دعویٰ میں بھی دھوکا کھایا ہو۔