افسوس کہ سادہ لوح حجرہ نشین مولویوں کی نظر محدودہے ان کو معلوم نہیں کہ پہلی کتابوں میں اسی ساعت کا وعدہ تھا جو طیطوس کے وقت یہودیوں پر وارد ہوئی اور قرآن شریف صاف کہتا ہے کہ عیسیٰ کی زبان پر اُن پر *** پڑی اور عذاب عظیم کے واقعہ کو ساعۃکے لفظ سے بیان کرنا نہ صرف قرآن شریف کا محاورہ ہے بلکہ یہی محاوہ پہلی آسمانی کتابوں میں پایا جاتا ہے اور بکثرت پایا جاتا ہے۔ پس نہ معلوم ان سادہ لوح مولویوں نے کہاں سے اور کس سے سُن لیا کہ ساعۃ کا لفظ ہمیشہ قیامت پر ہی بولا جاتا ہے۔ افسوس یہ لوگ حیوانات کی طرح ہوگئے۔ قدم قدم پر اپنی غلطیوں سے ذلّت اُٹھاتے ہیں پھر غلطیوں کو نہیں چھوڑتے کیا غلطیوں کی کوئی حد بھی ہے۔ قرآن کے منشاکو ہرگز یہ لوگ نہیں سمجھتے۔ آسمان پر تو حضرت عیسیٰ کو مع جسم چڑھا دیا مگر جو الزام یہودیوں کا تھا اُس کا کچھ جواب نہ دیا۔ خدا جو فرماتا ہے کہ یہود کہتے تھے33 ۱؂ اور جواب دیتا ہے کہ نہیں بلکہ ہم نے اُس کو اُٹھا لیا یہ کس بات کا ردّ ہے کیا صرف قتل کا۔ سو سنو کہ یہودیوں کا بار بار یہ شور مچانا کہ ہم نے عیسیٰ کو صلیب کے ذریعہ سے مار دیا۔ اُن کا اِس سے یہ مطلب تھا کہ وہ ملعون ہے اَور اُس کی رُوح موسیٰ ؑ اور آدم کی طرح خدا کی طرف نہیں اُٹھائی گئی۔ پس خدا کا جواب یہ چاہئے تھا کہ نہیں درحقیقت اُس کی رُوح کا رفع ہوا ۔جسم کا آسمان پر اُٹھانا یا نہ اُٹھانا متنازعہ فیہ امر نہ تھا۔ پس نعوذ باللہ خدا کی یہ خوب سمجھ ہے کہ اِنکار تو رُوح کے رفع سے ہے جو خدا کی طرف ہوتا ہے۔ مگر خدا اِس اعتراض کا یہ جواب دیتا ہے کہ مَیں نے عیسیٰ کو زندہ بجسم عنصری دوسرے آسمان پر بٹھا دیا۔ خوب جواب ہے اور ابھی مَرنا اور قبض رُوح ہونا باقی ہے۔ خدا جانے بعد اِس کے رفع رُوحانی ہویاؔ نہ ہو۔ جو اصل جھگڑے کی بات ہے۔ ایسا ہی یہ لوگ عقل کے پورے میری بعض پیشگوئیوں کا جھوٹا نکلنا اپنے ہی دِل سے فرض کر کے یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ جب بعض پیشگوئیاں جھوٹی ہیں یا اجتہادی غلطی ہے تو پھر مسیحیت کے دعویٰ کا کیا اعتبار شاید وہ بھی غلط ہو۔ اِس کا اوّل جواب تو یہی ہے کہلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ اور مولوی ثناء اللہ نے موضع مُدّ میں بحث کے وقت یہی کہا تھا کہ سب پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں اس لئے ہم اُن کو